• Wednesday, 20 October 2021
9افراد کاقتل۔۔قاتل کون؟

9افراد کاقتل۔۔قاتل کون؟

صادق آباد (نیا ٹائم)نواحی علاقے ماہی چوک میں انڈھڑ گینگ کی جانب سے 9 افراد کے قتل کے معاملہ پرشہر بھر میں ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہےجبکہ واقعہ کا مقدمہ مقتولین کے ورثاء کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمہ میں گینگ کے پندرہ افراد اور سہولت کاروں کو نامزد کیا گیا جبکہ مقدمے میں اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کو بھی نامزد کیا ہے۔ اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں قتل اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پنجاب حکومت نے مظاہرین کے دباؤ کے باعث ڈی پی او رحیم یار خان اسد سرفراز کو تبدیل کردیا ہے ،نئےڈی پی او کیپٹن ریٹائرڈ علی ضیاء کو چارج سنبھال کا کہہ دیا گیا ، دو روز قبل صادق آباد کے علاقے ماہی چوک میں صبح کے اوقات میں مسلح ڈاکوؤں نے دکانوں پر ڈکیتی مزاحمت کے دوران اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے ،اس حوالے سے مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ ان افراد کو ڈاکوؤں کی جانب سے مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا تاہم پولیس کے مطابق واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے ، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شخص نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ وہ کاروبار کرتے ہیں ،واضح رہے کہ گزشتہ روزایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے صادق آباد میں قتل ہونےوالے9افراد کےورثاء سے اظہار تعزیت کیلئے جائے ماہی چوک پہنچے اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کی، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے کہا کہ اس سانحہ پر محکمہ پولیس شرمسار ہےاور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے مقتولین کے ورثاء کو یقین دہانی کرائی کہ وہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ،وزیراعلی پنجاب عثمان بزادر کے نوٹس کے بعد اے آئی جی پولیس جنوبی پنجاب نے متعلقہ ڈی ایس پی سرکل صادق آباد ، ایس ایچ اوتھانہ کوٹ سبزل اور چوکی انچارج کو معطل کردیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل ماہی چوک میں جاں بحق 9افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مقتولین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔