• Thursday, 27 January 2022
8 برس قید پانےوالا ملزم بری

8 برس قید پانےوالا ملزم بری

 لاہور(نیاٹائم) ہائیکورٹ لاہور نے ناقص  پراسیکیوشن کی بنیاد پر منشیات  برآمدگی کے الزام میں سزا پانے  والے شخص کوضمانت دے دی۔ 

 

جسٹس علی ضیا باجوہ کی سربراہی میں 2  رکنی بینچ نے ندیم اختر کی درخواست پر کیس کی سماعت کی جس دوران  فاضل بینچ نے ندیم اختر کی 8 سال قید اور 70 ہزار روپے جرمانے کی سزا کوکالعدم قراردے کراسے بری کرنے کاحکم دےدیا۔

 

 عدالت نے کمزورانویسٹی گیشن کی بنیاد  اور  ملزموں  کی بریت پر تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسروں کو نوٹس لینے  کاحکم  جاری کرتے ہوئے  ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائیاں کرنے کا بھی آرڈر دے دیا۔

 

جسٹس علی ضیا باجوہ نے عدالتی فیصلہ آئی جی پنجاب اور ڈائریکٹرجنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کو بھجوانے کا بھی حکم  دیا ہے۔۔سماعت کے دوران ہائیکورٹ لاہور نے منشیات مقدمات کی انویسٹی گیشن  کیلئے رہنما اُصول بھی بیان کئے۔

 

فیصلے میں لکھا گیا کہ ہر پولیس افسر خفیہ اطلاع پر چھاپے یا گشت کے جانے سے پہلے اور واپسی کا وقت رجسٹر نمبر 2 پر تحریر کرے۔۔ مال مقدمہ کو باقاعدہ سربمہر کرکے متعلقہ سٹور میں جمع کرایا جائے جب کہ رجسٹر نمبر 19 میں مال مقدمہ کا اندراج کیا جائے۔

 

فیصلے کا کہنا ہے کہ  منشیات برآمد کرنے، نمونے بنانے ، نمونے فرانزک بھجوانے اور مال مقدمہ محفوظ رکھنے والے پولیس افسروں کے بیانات قلم بند کیے جائیں۔۔ مقدمات میں شواہد اکٹھے کرنے اور نمونے حاصل کر کے فرانزک بھجوانے کے مکمل آغاز میں شامل افسروں کوبھی گواہی میں شامل کیا جائے۔ 

 

تحریری فیصلے میں  لکھا گیا ہے کہ  منشیات کے مقدمات میں نمونے فرانزک بھجوانے کیلئے رجسٹر نمبر 21 سے روڈ سیفٹی سرٹیفکیٹ کو بھی مقدمہ کا حصہ بنایا جائے اور وقوعہ کی اطلاع دینے والے پولیس افسر کو بھی مقدمہ میں گواہ بنایا جائے تاکہ منشیات کے مقدمہ میں ہرقسم کے شک کو ختم کیاجاسکے۔

 

غیر منتخب افراد کو ووٹ کا حصہ بنایا گیا، امیر حیدر ہوتی