• Tuesday, 29 November 2022
ہم نے ملاقاتوں میں کوئی غیر آئینی فرمائش نہیں کی، شاہ محمود قریشی

ہم نے ملاقاتوں میں کوئی غیر آئینی فرمائش نہیں کی، شاہ محمود قریشی

لاہور (نیا ٹائم)پاکستان تحریک انصاف کے  کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ہم سیاسی عدم استحکام کے خواہاں نہیں ، کیا ہم نے ملاقاتوں میں کوئی غیر آئینی یا جمہوریت کے خلاف فرمائش کی ہے ؟ ہمارا ایک نکاتی مطالبہ ہےکہ ملک میں فوری طور پر شفاف انتخابات کروائے جائيں، ملک کو مشکلات سے نکالنے کا واحد راستہ عام انتخابات  ہی ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام عدم اعتماد کی منصوبہ بندی کے ساتھ ہی شروع ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ  کڑی سے کڑی ملتی گئی ہماری معیشت اور سیاسی  صورتحال سب کے سامنے ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام ہم نے نہیں کروایا ، ہم حل پیش کر رہے ہیں کہ ملک میں نئے انتخابات کرانے سے استحکام آئےگا۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ سائفر من گھڑت بیانیہ ہرگز نہیں تھا ، سائفر ایک حقیقت تھی اور ہے بھی ، انہوں نے کہا کہ کامرہ کی نشست میں، میں بھی موجود تھا، اگر سائفر من گھڑت کہانی تھی تو پھر ڈی مارش کی کیا ضرورت تھی، سفیر نے واشنگٹن میں ہونے والی نشست کا خلاصہ بھجوایا ، سفیر نےکہا تھا کہ گفتگو کی نوعیت سفارتی نہیں تھی، یہ دھمکی آمیز تھی، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سائفر پر نہ تو بیانیہ گھڑا نہ  ہی گھڑیں گے، ہم نے سفیر کے بیان کو کسی بھی طرح کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تاہم دیکھنا تو یہ چاہیے کہ کیا ہم نے ان ملاقاتوں میں آئین یا جمہوریت کے برعکس کوئی مطالبہ کیا ہے ، ہم نے بار ہا کہا ہے کہ ہمارا ایک نکاتی مطالبہ ہے کہ ملک کو موجودہ دلدل سے باہر نکالنےکا واحد راستہ شفاف انتخابات ہیں، اگر کوئی بھی قابل ذکر بات ہے تو پچھلے دنوں لاہور کی کانفرنس میں جو نعرے بازی ہوئی اس کا بھی نوٹس لینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت سیاسی جماعت ہم نے ہمیشہ تمام اداروں کا احترام اور ان کا دفاع کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کے مضبوط ہونے سے ہی جمہوریت اور ملک مضبوط ہوتا ہے، یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم کسی بھی ادارے کی ساکھ کے خلاف ہیں،عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے، ملکی استحکام کے لیے ان کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے سیلاب، کورونا اور دہشت گردی کے خاتمے میں فوج کے کردار کی ہمیشہ تعریف کی ، تاہم آئین میں تمام اداروں کا کردار متعین ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ مارچ پرامن  اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا، شہریوں سے اپیل ہے کہ لانگ مارچ میں بھر پور طریقے سے شریک ہوں ، اس حوالے سے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ، ہم نے پہلے بھی 126 دن دھرنا دیا تھا وہ بھی پرامن تھا، 25 مئی کے لانگ مارچ میں بھی ہم پرامن تھے تاہم ہمارے پر امن کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔

 

مریم نواز کاجھوٹ ہمیشہ پکڑا جاتا ہے ،عمران خان