گوگل پر ایک ہفتے کے دوران بھارت میں دوسرا جرمانہ

گوگل پر ایک ہفتے کے دوران بھارت میں دوسرا جرمانہ

نیو دہلی (نیا ٹائم ویب ڈیسک )بھارت نے گوگل کو ایک ہفتے کے دوران دوسری بار اربوں روپے کا جرمانہ کیاہے ، بھارت کے مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) کی جانب سے گوگل پر 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز (تقریباً 24 ارب 59 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے ، جرمانے کی وجہ بھارتی ادارے سی سی آئی کی جانب سے گوگل کو اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر دیگر سروسز کو آگے بڑھنے سے روکنا قرار دی گئی ہے۔

سی سی آئی نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایپ ڈویلپرز کو تھرڈ پارٹی بلنگ یا پیمنٹ سروسز تک رسائی سے نہ روکے۔ بھارتی مسابقتی کمیشن کے مطابق گوگل نے اپنی بالادستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپ ڈویلپرز کو اپنے ایپ پیمنٹ سسٹم کے استعمال پر مجبور کیاہے ۔ اس سے قبل 20 اکتوبر کو بھی سی سی آئی نے گوگل پر 16 کروڑ 19 لاکھ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

مسابقتی کمیشن نے کہا تھا گوگل نے آن لائن سرچ اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے ایپ اسٹور میں اپنی بالادست پوزیشن کو اپنے ایپس جیسے دیگر ایپس مثلاً کروم اور یوٹیوب کے تحفظ کے لیے استعمال کیا ہے اور مخالف ایپس کو دبایا ہے ۔بھارت کے مسابقتی کمیشن نے اینڈرائیڈ پلیٹ فارم کیلئے گوگل کو اپنا طریقہ کار بھی بدلنے کا حکم دیا ہے ۔

بھارت میں ایک ہفتے کے دوران دوسرے جرمانے پر گوگل کے ترجمان نے کہا ہے کہ اخراجات کو کم رکھتے ہوئے ہمارے ماڈل نے بھارت میں ڈیجیٹل انقلاب کے حوالے سے مدد فراہم کی ہے اور کروڑوں شہریوں تک اسے توسیع دی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اس فیصلے کا جائزہ لے کر مزید اقدامات کا تعین کریں گے۔بھارتی ادارے سی سی آئی کے فیصلے کے خلاف گوگل کی جانب سے عدالت سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

سی سی آئی نے 199 صفحات  پر مشتمل اپنے فیصلے میں گوگل کو 3 ماہ کے اندر طریقہ کار میں تبدیلیوں کا حکم دیا ہے اور کمپنی کی جانب سے شفافیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

بھارتی ادارے مسابقتی کمیشن نے گوگل کے خلاف اس حوالے سے 2020 میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور شکایت کرنے والے فرد کی شناخت کو بھی ظاہر نہیں کیا گیا تھا ۔

 

روس نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد گندم درآمد کی آفر بھی کردی