یورپی یونین کا روس کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے پر غور

یورپی یونین کا روس کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے پر غور

ماسکو(نیا ٹائم ویب ڈیسک) پولینڈ کی حکمراں جماعت قانون اور انصاف پارٹی کے جنرل سیکریٹری کرزیزٹوف سوبولوسکی کا کہنا  ہے کہ وارسا کو افریقی اور ایشیائی تارکین وطن کے پولینڈ میں ممکنہ بہاؤ کو روکنے کے لیے روسی ایکسکلیو کیلینن گراڈ کے ساتھ اپنی سرحد پر دیوار بنانے پر غور کرنا چاہیے۔

 

قانون اور انصاف پارٹی کے جنرل سیکریٹری کرزیزٹوف پولسکی نے ایک انٹرویو میں بیلاروسی اور پولش سرحد پر 2021 کے تارکین وطن بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی تشویش کی وجہ مینسک اور ماسکو کی طرف سے مبینہ طور پر شروع کی گئی ہائبرڈ جنگ کے ساتھ ساتھ ترکی، شام اور بیلاروس سے پروازوں کے لیے کیلینن گراڈ کی فضائی حدود کو کھولنے کا حوالہ دیا۔پولش عہدیدارنے کہا کہ ہمیں سرحد کے اس حصے پر جو روس کے ساتھ ملتا ہے اپنی افواج کو مضبوط کرنا ہوگا اور پولینڈ کو بیلا روسی سیکشن پر بھی سرحدی دیوار بنانے پرغور کرنا ہوگا۔

 

 سوبولوسکی  کا مزید کہنا تھا  کہ وہ بیلاروس کی سرحد پر گزشتہ سال کے بحران کے ساتھ ساتھ کیلینن گراڈ کی سرحد پر ممکنہ مستقبل کے بحران کو ایک ہائبرڈ جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں جس کو روس اور بیلاروس کی طرف سے شروع کیا گیا اور ان دونوں ممالک نے تارکین وطن کو یورپی ممالک کی سرحدوں پر بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کو ماسکو اور مینسک کو کامیاب ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے انٹرویو میں سوبولوسکی نے پیش گوئی کی کہ تارکین وطن مستقبل قریب میں کیلینن گراڈ سے پولینڈ جانے کی کوشش شروع کر سکتے ہیں۔

 

 

بنگلہ دیش میں طوفان سے چوبیس افراد ہلاک ہوگئے