• Tuesday, 29 November 2022
سارہ قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ، مزید کردار شامل تفتیش

سارہ قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ، مزید کردار شامل تفتیش

اسلام آباد (نیا ٹائم)سینئر صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز کے ہاتھوں قتل ہونے والی بیوی سارہ انعام کے کیس میں تفتیش کے دوران مزید اہم پیشرفت ہوئی ہے ۔ پولیس حکام نے سارہ انعام قتل کیس میں مزید کرداروں کو شامل تفتیش کیا ہے ۔ ملزم شاہنواز کے گواہان معتبر شاہ ، سجاد اور بابر کو بھی پولیس نے تفتیش میں شامل کیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق مقتولہ سارہ کے نکاھ خواں مولوی غلام مرتضیٰ سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے ۔ ملزم شاہنواز اور مقتولہ سارہ کے قتل کے بعد لڑکے کے خاندان نے نکاح پرانی تاریخ میں رجسٹرڈ کروایا ہے ۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے پراپرٹی ڈیلر عثمان اور ہارون تارڑ کو بھی تفتیش میں شامل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ واقعہ کے اہم کردار ملزم شاہنواز کے ماموں عالمگیر سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے ۔

ذرائع کے مطابق شاہنواز اور سارہ کا نکاح چکوال کی مسجد میں 18 جولائی کو ہوا جبکہ سارہ 21 جولائی کو دبئی چلی گئِ ، 26 جولائی کو سارہ کی واپسی ہوئی اور ملزم نے اسے پراپرٹی میں انوسٹمنٹ کیلئے قائل کیا ۔ ملزم شاہنواز نے مقتولہ سارہ کو مری میں اپارٹمنٹ خرینے کی بھی ترغیب دی اور سارہ نے مری میں اپارٹمنٹ خریدنے کیلئے بطور بیانہ 50 ہزار روپے بھی عثمان کو ادا کئے ۔ ملزم شاہنواز کے کہنے پر عثمان اسی رات فارم ہاوس مِں آیا اور اس نے مزید رقم کا بھی تقاضا کیا ۔

ذرائع کے مطابق سارہ نے اگلی صبح صحافی ایاز امیر کو فون پر پورا واقعہ بتایا اور دو روز بعد دوبارہ دبئی چلی گئی ۔ اگست میں سارہ کی واپسی ہوئی تو ملزم شاہنواز نے مقتولہ کو گاڑی خریدنے کیلئے اصرار کیا ۔ ملزم شاہنواز نے ہارون تارڑ نامی شخص سے گاڑی کی خریداری کیلئے ملاقات بھی کی ۔ مقتولہ سارہ نے 28 لاکھ روپے میں گاڑی خریدنے کی حامی بھر لی لیکن رقم پاکستانی کرنسی میں نہ ملنے پر ہارون گاڑی واپس لے کر چلا گیا ، مقتولہ سارہ گاڑی خریداری کیلئے  ملزم شاہنواز کو 70 ہزار درہم دے کر دوبارہ دبئی چلی گئی ۔

ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز نےا پنے ماموں عالمگیر کے ذریعے درہم پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروائے ، ملزم شاہنواز نے 28 لاکھ روپے گاڑی  کی ادائیگی کی جبکہ باقی پیسے خود رکھ لیے ۔

ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز سارہ سے مختلف چیریٹیز کے نام پر بھی پیسے منگواتا رہا ۔ مقتولہ سارہ نے اپنے والدین کو شادی کا بتایا تو وہ ناراض ہوئے تاہم بعد مِں انہوں نے ملزم کی فیملی سے بات کرنے کی حامی بھر لی ۔

ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز سارہ کو دھمکاتا بھی رہا ، مقتولہ 22 ستمبر کو پاکستان پہنچی تھی اور خود ہی ائیرپورٹ سے گھر آئی ، مقتولہ سارہ نے ملزم شاہنواز کی والدہ سے بھی ملاقات کی ۔ اگلی صبح ملزم نے سارہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور جم کے ڈمبل مار کر اسے بے دردی سے قتل کر دیا ۔

ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ سارہ انعام کو پھنسا کر اس سے پیسے بٹور کر اسے قتل کر دیا۔

 

کراچی صدر چینی ڈینٹسٹ کے کلینک پر فائرنگ ، ایک شخص ہلاک دو زخمی