• Tuesday, 29 November 2022
مریم نواز کواسلام آباد ہائیکورٹ سےبڑاریلیف مل گیا،7سال کی سزاکالعدم

مریم نواز کواسلام آباد ہائیکورٹ سےبڑاریلیف مل گیا،7سال کی سزاکالعدم

اسلا م آباد(نیاٹائم)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو بری کر دیا ہے۔

 

مریم نواز کی طرف  سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے کی۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کورٹ  میں کہا کہ میں نے پہلے بتایا کہ نیلسن اور نیسکول کمپنیاں کب بنیں، پھر بتایا کہ ان کمپنیوں نے یہ پراپرٹیز کب خریدیں، انہوں نے انکار کیا کہ یہ پراپرٹیز 1993 سے ان کے پاس ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کمپنیز نے اس عرصے میں ضرور پراپرٹیز خریدیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ 2006 میں قطری خاندان  سے سیٹلمنٹ کے بعد ان کے پاس آئیں۔جسٹس محسن اختر نے ریمارکس  میں کہا کہ اس سارے مقدمےمیں ان تمام ملزموں  کو تو کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا، یہ مقدمہ  تو آپ نے ثابت کرنا تھا۔

 

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کا مقدمہ  شاید ٹھیک ہو لیکن  آپ اس کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، ہم صرف پبلک نالج یا کسی کی سنی سنائی بات پر فیصلہ نہیں سنا سکتے، مریم نواز  پبلک آفس ہولڈر  نہیں تھیں اس لیے ان پر اثاثوں کا مقدمہ نہیں بنتا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے مریم نواز کی 7 برس کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا ہے۔ 

 

یاد رہے کہ احتساب کورٹ  نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو 7 برس اور ان کے خاوند کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک برس قید کی سزا سنائی تھی، مریم نواز کو جرم میں معاونت کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ایون فیلڈ مقدمے میں ہی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو 10 برس قید کی سز اسنائی گئی تھی۔

 

اسحاق ڈار نے بطور سینیٹر اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا