• Tuesday, 29 November 2022
ایران میں زیرحراست لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج کئی دن بعد بھی جاری

ایران میں زیرحراست لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج کئی دن بعد بھی جاری

ایران (نیاٹائم ویب ڈیسک )ایران میں پولیس حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئی دن بعد بھی جاری ہیں۔

 

متعدد شہروں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں اب تک 76  افراد ہلاک اور  900 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ  ایرانی میڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد 41 بتائی گئی ہے۔

 

واضح  رہے کہ ایران میں پولیس کی حراست میں مہسا امینی دل کا دورہ پڑنے سے 16ستمبر کو دم توڑگئی تھیں، 22 سالہ مہسا امینی کو تہران میں سکارف نہ پہننے  کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے  بھی جاری ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہےکہ حجاب پر پابندی اور خواتین کے خلاف تشدداور  امتیازبھی ختم کیا جائے۔

 

ایک اور بھارتی ہاسٹل میں لڑکیوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف