• Friday, 30 September 2022
فواد چوہدری نے چیف جسٹس پاکستان کی رائے کو آئین کے منافی قرار دیدیا

فواد چوہدری نے چیف جسٹس پاکستان کی رائے کو آئین کے منافی قرار دیدیا

اسلام آباد (نیا ٹائم) رہنما پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کے اسبلی سے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی رائے آئین کے منافی ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبللی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان  جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی تھی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام نے آپ لوگوں کو 5 سال کیلئے منتخب کیا ہے ، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں بیٹھ کر اپنا کردا ر ادا کرے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ ملکی معاشی حالات انتہائی خراب ہیں ، آپ کو اندازہ بھی ہے کہ اگر 123 نشستوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات کروائے گئے تو اس پر کتنے اخراجات آئیں گے ؟ آپ لوگوں کا ایک ساتھ تمام نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانے کا آخر مقصد کیا ہے ؟

ان ریمارکس پر رد عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ احتراف کے ساتھ ، چیف جسٹس کی رائے آئین کے منافی ہے ، پانچ سال اسمبلی کی مدت ہے ، اس مدت سے  پہلے بھی توڑ دی جائے ؟

فواد چوہدری نے کہا کہ عوام موجودہ اسمبلی کو عوامی نمائندہ نہیں سمجھتی ، انتخابات اخراجات سے زیادہ قیمت ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں ۔

 

خان صاحب تیاری پکڑیں ، ہم بھی تیار ہیں ، رانا ثناء اللہ