خاتون جج کو دھمکیوں کےکیس میں عمران خان پرفردجرم عائد نہ ہوسکی

خاتون جج کو دھمکیوں کےکیس میں عمران خان پرفردجرم عائد نہ ہوسکی

اسلام آباد(نیاٹائم)خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس میں چیئرمین  پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں معافی مانگ لی ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، شاہ محمود قریشی، شبلی فراز اور عمران خان کے وکیل حامد خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے۔  چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس پر سماعت کی۔

 

اس موقع پر سکیورٹی کے بھی  انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ عدالت میں جانے کی ہرگز اجازت نہیں  تھی ۔عمران خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ریڈ لائن کراس کی ہے تو اس پر میں  معافی مانگتا ہوں، اگر کورٹ  کچھ اور چاہے تو وہ بھی کرنےکیلئے   تیار ہوں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کا بیان ریکارڈ کرتے ہیں لیکن ابھی  فرد جرم عائد نہیں کرتے،  آپ نے اپنے بیان کی سنگینی کو سمجھا، ہم اس  چیز کو سراہتے ہیں،  آپ تحریری حلف نامہ جمع کروائیں ، بیان حلفی داخل کریں پھر کورٹ اس پر  جائزہ لے گی۔عدالت عالیہ اسلام آباد نے عمران خان کو حلف نامہ جمع کرانے کیلئے 29 ستمبر تک کی مہلت دی اور مقدمے کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

 

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے حوالے سے پولیس سکیورٹی آرڈر بھی  جاری کر دیا گیا ہے اور آج کی پیشی پر2 ایس پیز سمیت 710 افسران و اہلکار تعینات کیے گئے تھے، سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔

 

لال حویلی کےلینڈلائن نمبرپردھمکی آمیزکال