صارفین کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کی مبینہ ٹریکنگ پرمیٹا کومقدمےکاسامنا

صارفین کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کی مبینہ ٹریکنگ پرمیٹا کومقدمےکاسامنا

امریکا(نیاٹائم ویب ڈیسک)صارفین کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کو مبینہ طور پر ٹریک کرنے پر میٹا کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کردیاگیا۔امریکی شہر سان فرانسسکو کی  کورٹ  میں فیس بک کے 2 صارفین نے مقدمہ دائر کیا ہے۔ان صارفین نے الزام لگایا ہے کہ میٹا کمپنی نے ایپل کے 2021 کے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جب کہ  ریاستی اور وفاقی قوانین کو نظرانداز کر کے صارفین کی اجازت کے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا بھی کلکٹ کیا۔

 

اسی طرح کا ایک اور مقدمہ پچھلے ہفتے اسی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔یہ مقدمات اگست میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کی بنیاد پر دائر کیے گئے ہیں ۔اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام ایپلی کیشن  میں صارفین جب لنکس پر کلک کرکے ویب سائٹس پر جاتے ہیں تو کمپنی انہیں ٹریک کرتی ہے۔ان دونوں ایپلی کیشن  میں اس مقصد کیلئے 'ان ایپ براؤزر' میں ویب پیجز کو اوپن کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ پر ری ایکشن  ظاہر کرتے ہوئے میٹا نے تسلیم کیا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام میں براؤزر سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے لیکن  کمپنی کی طرف سے اس بات کی تردید کی گئی تھی کہ غیرقانونی طور پر صارفین کا ڈیٹا کلکٹ کیا جاتا ہے۔

 

میٹا کے خلاف دائر کیے گئے حالیہ کیسز میں ایپل کے پرائیویسی اصولوں کی مبینہ خلاف ورزی پر بھی بہت  زور دیا گیا ہے۔ایپل کے 2021 کے قوانین کے مطابق آن لائن سرگرمیوں کو ٹریک کرنے سے پہلے تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن کیلئے صارفین کی اجازت حاصل کرنا لازمی  ہے۔ایپل کی طرف  سے پرائیویسی قوانین کو تبدیل کرنے پر میٹا کی آمدنی میں ایک برس کے دوران 10 ارب ڈالرز کی کمی آئی ہے۔میٹا کی طرف سے فی الحال ان کیسز پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

 

وزیراعظم کی امریکی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی جان کیری سے ملاقات