• Friday, 30 September 2022
پریشان کن حالات کا سامنا ہے ، سب کو صبر کرنا ہو گا ، عائشہ غوث پاشا

پریشان کن حالات کا سامنا ہے ، سب کو صبر کرنا ہو گا ، عائشہ غوث پاشا

اسلام آباد (نیا ٹائم) وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے ملک کو پریشان کن حالات کا سامنا ہے ، اس لیے سب کو ہی صبر کرنا ہو گا ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانے کے اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے گفتگو کرتے ہوئئے کہا کہ ڈالر کنٹرول نہیں ہو رہا ، ہمارے زمانے میں فری لانسر نے 3 ارب ڈالرز باہر رکھے تھے ، وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پیسہ آنے کے بعد روپیہ مستحکم ہو جائے گا ، سپر سائیکل کم ہو گیا ہے ، آئل کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں برآمدات بھی کم ہو گئی ہیں ۔

سابق وزیر خزانہ نے پوچھا کہ کچھ ممالک نے آپ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد پیسے دیں گے جن ممالک نے وعدے کئے تھے اس حوالے سے کیا پیشرفت ہوئی ہے ؟

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم آئے تو آئی ایم ایف پروگرام مکمل طور پر معطل تھا ، جسے بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنا پڑے ۔ پروگرام سے قبل ہی مارکیٹ خود کو ایڈجسٹ کر رہی تھی اس لیے ڈالر کی قدر زیادہ کم نہیں ہو سکی ۔ اس وقت ڈالر میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ سیلاب ہے ۔ سیلاب سے پہلے یوکرین جنگ کے مسئلہ کی وجہ سےتیل کی قیمتیں بڑھیں ۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے بڑی بڑی معیشتیں ہل کے رہ گئی ہیں ۔ ہم تو اس سے قبل ہی نازک صورتحال سے دوچار تھے ۔ یوکرین جنگ کے بعد ہم نے تو ہلنا ہی تھا ۔ اس وقت ملک میں پریشان کن حالات کا سامنا ہے ۔ ہر کسی کو صبر کرنا پڑے گا ۔

وزیر خزانہ برائے مملکت عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 1٫5 بلین ڈالرز کیلئے بات چیت ہو رہی ہے ۔ مختلف ذرائع سے 7 بلین ڈالرز کے لیے بات چیت کر رہے ہیں ۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بات چیت چل رہی ہے امید ہے تعمیر نو کیلئے بیرون ملک سے کچھ مثبت ہی ہو گا ۔

کمیٹی ممبران نے پوچھا کہ آئی ایم ایف  سے معاہدہ ہو چکا لیکن ڈالر اوپر جا رہا ہے جبکہ شوکت ترین نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے بینکوں کے خلاف جو نوٹس لیا ہے اس پر کارروائی کرنے دیں ۔

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ان تمام بینکوں کے حوالے سے چھان بین کے بعد دوسرے بینکوں کی بھی چھان بین کریں گے ۔ لگتا ہے کہ بینکوں نے رسک پرائس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل سی میں اور چارج کیا ہے ۔

نجی بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹر بینک اور مارکیٹ میں ڈالر کا بہت بڑا فرق ہے ، ڈالر کی سمگلنگ کو روکنے کیلئے بینکوں کیلئے بہت مشکل وقت ہے ۔ جس کی وجہ سے بینک اوور چارج کر رہے ہیں پاکستان میں ڈالر کی کمی کا سامنا ہے لیکیج کو بھی روکیں گے ، درآمدات کم کریں زر مبادلہ میں اضافہ کریں ، سخت وقت سے گزر چکے ہیں اب صورتحال بہتر ہو گی ۔

 

سیلاب متاثرین بحالی، این ڈی ایم اے کیلئے10 ارب روپے کی منظوری