آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑ گئی ، درجنوں ہلاکتیں

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑ گئی ، درجنوں ہلاکتیں

نگورنو کارا باخ (نیا ٹائم ویب ڈیسک ) متنازع علاقے نگورنو کارا باخ میں دوبارہ آذر بائیجان اور آرمینیا کی فوجوں میں جنگ چھڑ گئی ، دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے ، اب تک درجنوں اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں ۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نگورنو کارا باخ میں آذر بائیجان اور آرمینیا کی فوجوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے ،  یہ 2020 ء میں آرمینیائی فوج کی پسپائی اور سیز فائر کے بعد ہونے والی سب سے بڑی لڑائی ہے ۔

آرمینیا کے وزارت دفاع نے آذر بائیجان پر الزام لگایا ہے کہ آذر بائیجان کی فوجون نے بھاری توپ خانے اور آتشیں اسلحہ کے ساتھ نگورنو کاراباخ  پر حملہ کیا ہے ، علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ آذر بائیجان کی فوجوں نے گورس ، سوٹک اور جرموک کے شہروں میں بھی آرمینیائی  فوجیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے ۔

دوسری جانب آذر بائیجان کی طرف سے آرمینیائی فوجوں پر  الزام لگایا گیا ہے کہ وہ سرحدی اضلاع دشکیسان ، کیلبازار اور لاشین کے قریب بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں اور علاقے میں ہتھیار جمع کر کے بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں ۔

دونوں جانب سے ہلاکتون کے حوالے سے متضاد خبریں اور دعوے کئے جا رہے ہیں ، جھڑپوں میں آرمینیا کے 40 سے  زائد فوجیوں کی ہلاکتوں کی اطلاع ہے جبکہ آذر بائیجان کے بھی 10 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں ۔

واضح رہے اکتوبر 2020 ء میں ہونے والی ایک ماہ طویل جنگ میں 300 سے زائد ہلاکتوں کے بعد روسی ثالثی میں آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان سیز فائر ہوا تھا ، آرمینیا کی افواج نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے متعدد مقامات سے فوجیں ہٹا لی تھیں ۔

 

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں