• Friday, 30 September 2022
من حیث القوم ہماری حقیقت

من حیث القوم ہماری حقیقت

اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کہ نقشے پر نو وارد ہوا اپنی الگ پہچان کے ساتھ، قائد اعظم نے اس مملکت کی بنیاد رکھی اس نظریے کے تحت کہ مسلمانوں کو اپنا الگ تشخص چاہئیے، مسلمانوں کی تہذیب، تمدن، عقائد سب جدا ہیں لہذا غلامی کی زندگی نہیں گزاریں گے،اپنے تشخص اور تہذیب و تمدن کیلئے اور ایک مسلم ریاست میں امن اور سلامتی سے رہنے کیلئے عزتوں اور جانوں کا نذرانہ  دیا گیا ، ملک پاکستان کی بنیاد مضبوط کرنے کیلئے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اس کی مٹی کو چھوتے ہی سجدہ شکر ادا کیا گیا۔

 

 

قائداعظم نے دن رات جدوجہدکی اور اپنا آرام چھوڑ کر اپنی صحت داو پر لگا کر اس عظیم مملکت کی داغ بیل ڈالی ،مگر افسوس کہ آج یہ عظیم ریاست اپنا تشخص اپنی تہذیب و تمدن، اپنی بردباری سب بگاڑ چکی ہے۔

 

 

 

پاکستان کی ریاست ، پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی عوام سب نےاپنے قائد کا بنایا ہوا نقشہ تہہ و بالا کر دیا ، آج کا پاکستان اس نوزائیدہ پاکستان سے یکسر الگ روش پر ہے جس کے بارے قائد کا فرمان تھا کہ

’’اسلامی جمہوریہ پاکستان مسلم امہ میں اپنے کردارکے ساتھ ابھرے گا‘‘

 

لیکن اب موجودہ حالات میں پاکستان اپنے مسائل میں اس قدر گھر گیا ہے یا یوں کہہ لیں کہ پاکستان کو اغیار کی سازش نے اس مقام پر پہنچادیاہے کہ دوست کم اوردشمن زیادہ بن چکےہیں۔ دوسری طرف ریاست پر براجمان حکومتوں نے محض اپنی اجارہ داری اور خود نوازی کو قائم رکھنے کیلئے اس کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں اب پاکستان مسلم امہ میں کیا کردار نبھائے گا جو اپنوں کے ہاتھوں ہی اپنا تشخص اپنا کردار گنوا چکا ہے !!

 

 

 

پاکستان نہ مسئلہ کشمیر میں کردار ادا کر سکا ابھی تک، محض ترانے گا کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ یک جہتی جتلا دی جاتی ہے اور ہاتھوں کی زنجیربناتے بناتے اپنے ہی مسائل کی زنجیروں میں بندھ کر رہ گئے ہیں،اس کے بعد فلسطین میں کیا کیا کردار ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے ، آئے دن غزہ میں جس طرح مسلمان چھلنی کئے جا رہے ہیں ، بیت المقدس سے صدائیں گونج رہی ہیں ، مسجد اقصی کی پکار و فریاد ، آہ مگر یہاں سیاست کا وہ کھیل رچا ہے کہ الامان الحفیظ ، غلام ذہنیت کی بیڑیاں کسی بھی طور پاکستان کو ایک مسلم ریاست کے طور پر اپنا کردار نبھانے نہیں دے رہیں۔

 

یہ آزاد ریاست اس قدر بادشاہ پرور ہو چکی ہے اور اپنے مفادات کی لت میں قید ہو چکی ہے کہ اپنے کسی مسلم برادر کا مقدمہ لڑنے یا ان کے حق کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہی،کیونکہ اپنے مسائل اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ لحظہ بھر کو بھی ان کو خیال نہیں ہوتا کہ کشمیر اور فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ چکی اور ابھی تک مظالم کا شکار ہیں اورمسلمانوں کا بیت المقدس ہر لمحہ کفار کے نشانے پر ہے !

 

ان کی بندوقیں تو اپنے ہی گھر کی جانب اٹھی ہوئی ہیں، ان کی تو اپنی عوام کا جینا دوبھر ہے ، یہ تو خود اپنی ریاست کے تقدس اور تشخص پر نشانے باندھے بیٹھے ہیں یہ کیا کسی کو لہو دے کر بچائیں گے !!

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)