برطانیہ میں پولیو سر اٹھانے لگا ، بچوں کی ویکسینیشن کا فیصلہ

برطانیہ میں پولیو سر اٹھانے لگا ، بچوں کی ویکسینیشن کا فیصلہ

لندن (نیا ٹائم ویب ڈیسک )برطانیہ میں دوبارہ پولیو کا خطرہ منڈلانے لگا ، برطانوی نکاسی آب کے نظام میں پولیو وائر کی موجودگی کے بعد برطانوی حکومت نے ایک سے 9 سال تک کی عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یوکے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق بچوں کو پولیو سے بچانے کیلئے نئے بوسٹر پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے ، یوکے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ فروری سے اب تک شمال مشرقی اور وسطی لندن کے نکاسی آب کے 19 نمونوں میں سے پولیو کے 116 وائرس شناخت ہو چکے ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس وائرس سے مزید کتنے افردا متاثر ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک برطانیہ میں پولیو کا کوئی بھی کیس رپورت نہیں ہوا ہے ۔ تاہم آبادی میں وائرس کا پھیلاو روکنے کیلئے حکام نے بچوں کو معذوری سے بچانے کیلئے آئندہ 4سے 6 ہفتوں میں پولیو ویکسین کی اضافی خوراک استعمال کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکام نے والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جا کر ویکسی نیشن کروائیں ۔

ماہرین کے مطابق آبادی کی اکثریت پولیو کے خلاف ویکسینیشن کروا چکی ہے تاہم بیماری کا خطرہ بہت کم ہے مگر لندن کے کچھ حصوں جہاں ویکسی نیشن کی شرح کم ہے وہاں پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے

انہوں نے کہا ہے کہ اسی وجہ سے آبادی میں وائرس پھیل رہا ہے اور ویکسی نیشن نہ کروانے والوں کو زیادہ خطرے کا سامنا ہے ۔ عموماً لندن میں پولیو وائرس ہر سال دریافت ہوتا ہے مگر حالیہ مہینوں میں اس کی مقدار میں غیر معمولی طور پر اضافہ دیکحا گیا ہے جس کے بعد یہ خدشہ ہے کہ آبادی کے اندر اس کا پھیلاو ہو سکتا ہے ۔

واضح رہے جون میں پولیو وائرس کے پھیلاو کے شواہد ملنے کے بعد سے برطانیہ میں قومی سطح پر ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے ۔ محکمہ صحت کے حکام کا ماننا ہے کہ وائرس کسی ایسے فرد سے شروع ہو سکتا ہے جو کسی ایسے ملک سے برطانیہ آیا ہے جہاں اسے منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین استعمال کرائی گئی ہو ۔

واضح رہے برطانیہ میں پولیو کا آخری کیس 1984 ء میں رپورٹ ہوا تھا جبکہ اسے 2003 ء میں پولیو فری ملک قرار دیا گیا تھا ۔

پولیو وائرس ناقص صفائی ، پانی کی اور غذائی آلودگی کے باعث پھیلتا ہے تاہم کبھی کبھار کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے بھی ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے ۔

 

چین میں ایک اورنئی وباء پھوٹ پڑی