برطانیہ میں شرح سود 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

برطانیہ میں شرح سود 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

لندن (نیا ٹائم  ویب ڈیسک )برطانیہ میں مہنگائی اور کساد بازاری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ، مہنگائی اور کساد بازاری روکنے کیلئے برطانیہ میں مسلسل چھٹی بار شرح سود میں اضافہ کر دیا گیا ، شرح سود 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔

بینک آف انگلینڈ کی طرف سے شرح سود میں اعشاریہ 50 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد شرح سود 1٫25 سے بڑھ کر 1٫75 فیصد ہو گئی ہے ۔ یعنی بنیادی طور پر 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے جو 1995ء کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔

شرح سود میں اتنے بڑے اضافے کی منظوری بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایک کے مقابلے میں 8 ووٹوں کی اکثریت سے دی ۔ کمیٹی ممبرز کا کہنا تھا کہ 27 سال میں پہلی بار شرح سود میں یکمشت اتنے بڑے اضافے سے برطانیہ اور یورپ میں مہنگائی اور کساد بازاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔

بینک آف انگلینڈ کے تخمینے کے مطابق برطانیہ میں اکتوبر 2022 ء تک مہنگائی کی شرح 13٫3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ جبکہ جون میں مہنگاءی کی شرح 9٫4 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو کہ 40 سال کی بلند ترین سطح ہے ۔ برطانیہ میں اشیائے خورو نوش اور توانائی کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔

بینک آف انگلینڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ کو 2022 ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران کساد بازاری کا بھی سامنا ہو سکتا ہےجو کہ 2023 تک برقرار رہنے کا امکان ہے ۔

واضح رہے بینک آف انگلینڈ نے دسمبر 2021 ء میں شرح سود میں پہلا اضافہ کیا تھا جبکہ جون 2022 ء میں پانچویں بار شرح سود بڑھائی گئی تھی اور اب چھٹی بار شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے ۔

 

ڈالر تیسرے روز بھی بے وقعت ، قدر میں بڑی کمی