بنگلہ دیش میں بھی بجلی کا شدید بحران پیدا ہو گیا

بنگلہ دیش میں بھی بجلی کا شدید بحران پیدا ہو گیا

ڈھاکہ (نیا ٹائم ویب ڈیسک )پاکستان کے بعد بنگلہ دیش میں بھی بجلی بحران شدت اختیار کر گیا ، ایندھن بحران کے بعد ملک میں بجلی کی قلت ہو گئی ، لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام کی نظریں حکومتی ریلیف کی راہ تک رہی ہیں ۔

بنگلہ دیش میں بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے ، ماہرین نے بنگلہ دیش حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے ملک میں گیس کی پیداوار میں اضافے کیلئے کوششیں کرے ۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے بجلی ، تونائی اور معدنی وسائل نصر الحامد کا کہنا ہے روس اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث بنگلہ دیش کو گیس کی سپلائی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے ۔

امریکی ادارے انرجی ، اکنامکس اور فنانشل اینالسز سے منسلک سائمن نکولس کے مطابق بنگلہ دیش کا پاور سیکٹر تیزی سے فوسل فیول کی درآمدات پر انحصار کر رہا ہے جو کہ غیر مستحکم شئے ہے ۔

واضح رہے بنگلہ دیش کو بجلی کی 97 فیصد شرح پر کافی فخر تھا ، اور بنگلہ دیش حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملک کی 100 فیصد آبادی تک بجلی کی رسائی ہے ، اس نے اپنی بجلی کی پیداواری صلاحیت کو 15 ہزار میگا واٹ سے بڑھا کر 25 ہزار میگا واٹ تک کر دیا تھا ۔ تاہم جون سے ملک میں بجلی کی بندش نے تمام تر حکومت دعووں کا پول کھول دیا ہے ۔ بجلی کی طویل بندش نے عوام کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

دوسری جانب بنگالی حکومت ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کو کم کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت نے دو ہفتے قبل ہی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول ، ائیر کنڈیشننگ کے استعمال پر قابو پانے سمیت ایندھن کی درآمد کے دباو کو کم کرنے کیلئے کام کے اوقات میں بھی کمی کی تھی ۔

ڈھاکا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رضوان رحمان کے مطابق بجلی کی بندش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ سال 2019 اور 2020 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا جبکہ حال ہی میں گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس سے دوبارہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔

 

بھارتی حکومت نے متنازع بل واپس لے لیا