بھارتی حکومت نے متنازع بل واپس لے لیا

بھارتی حکومت نے متنازع بل واپس لے لیا

نیو دہلی (نیا ٹائم   ویب ڈیسک )بھارتی حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول رائٹس گروپوں کی شدید تنقید کے بعد متنازعہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پارلیمان سے واپس لے لیا ۔

بھارتی حکومت کے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی ۔ اس بل کے تحت حکومت کو صارفین کی حساس تفصیلات تک رسائی حاصل ہو جاتی ۔

بھارتی حکومت کی جانب سے 2019 ء  میں متعارف کروایا جانے والا بل سرپرائز بن کر آیا تھا اور حکومت کی جانب سے حال ہی میں عندیہ دیا گیا تھا کہ اس بل کو جلد ہی منظور کر لیا جائے گا ۔

بھارتی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ پارلیمان کی جوائنٹ کمیٹی نے اس بل کیلئے متعدد ترامیم اور سفارشات بھی پیش کی تھیں جس کے بعد بل کو واپس لیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے منظم قانونی فریم ورک پر بھی کام کیا جا رہا ہے جس کے بعد جلد نیا بل پیش کیا جائے گا ۔ حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل میں بھارتی شہریوں کے ڈیٹا کے حوالے سے حقوق دینے کی بات کی گئی تھی تاہم ناقدین نے اسے بھارتی حکومت کو شہریوں کے حساس ڈیٹا تک رسائی قرار دیا تھا ۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ بل میں حکومتی اداروں کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور بڑے اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا جبکہ پرائیویسی کے بنیادی حقوق کا بھی مناسب خیال نہیں رکھا گیا ہے ۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں ، میٹا ، گوگل اور ایمازون سمیت دیگر بڑی کمپنیوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا ۔

 

بھارت میں اسلام دشمن سرگرمیاں جاری، مسجد شہید کردی گئی