پہلا بحری جہاز یوکرینی اناج لے کر استنبول پہنچ گیا

پہلا بحری جہاز یوکرینی اناج لے کر استنبول پہنچ گیا

استنبول (نیا ٹائم  ویب ڈیسک ) ترک صدر رجب طیب اردوان کی کوششیں رنگ لے آئیں ، اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی میں یوکرین اور روس کے مابین ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں یوکرین سے اناج لے کر پہلا بحری جہاز استنبول پہنچ گیا ۔

معاہدے کے تحت گندم کی بحفاظت ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے ترک دارالحکومت استنبول میں مشترکہ رابطہ مرکز قائم کیا گیا تھا جہاں گزشتہ روز یوکرینی بندرگاہ اوڈیسا سے لبنان کیلئے اناج لے کر روانہ ہونے والا جہاز بخیریت ترک شہر استنبول  کی بندرگاہ پہنچ گیا ۔

مشترکہ رابطہ مرکز سے جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق جنگ کے بعد یوکرین سے روانہ ہونے والی پہلی شمپنٹ 26 ہزار ٹن مکئی لے کر منگل کی رات استنبول کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوائی ہے جہاں اناج کے جہازوں کے ذریعے ہتھیار سمگل کرنے کے روسی خدشات کے پیش نظر جہاز کا معائنہ کیا جائے گا ۔

ترک حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدے کے تحت یوکرین سے روزانہ کی بنیاد پر ایک شپمنٹ روانہ ہو سکے گی اور اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی ۔

اوڈیسا بندرگاہ سے پہلی کھیپ لے کر روانہ ہونے والے جہاز کی روانگی کے ووقت یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ بندرگاہ سے اناج کی پہلی شپمنٹ کی روانگی مثبت اشارہ ہے تاہم ہم کسی طرح کی جلد بازی میں کوئی اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مستقبل میں معاملے کس طرف کو چلیں گے اور یوکرین کی برآمدات پر روسی رویہ کیا ہو گا ؟

دوسری جانب روس کی یوکرین سے اناج کی پہلی کھیپ کی روانگی کی خبر کو مثبت قرار دیتے ہوئے دنیا میں غذائی قلت کی ذمہ داری کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو غذائی قلت کا سامنا روس یوکرین جنگ کے باعث نہیں بلکہ دنیا کو غذائی قلت کا سامنا مغرب کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہے ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی معاہدے کے مطابق یوکرینی اناج کی پہلی شپمنٹ استنبول پہنچنے پر خیر مقدم کرتے ہوئے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے ترک حکومت کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اسے سراہا ہے ۔

 

حریت رہنماء یاسین ملک کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کردی گئی