• Friday, 30 September 2022
فالج کے مریضوں کیلئے کورونا زیادہ خطرناک

فالج کے مریضوں کیلئے کورونا زیادہ خطرناک

نیوجرسی(نیاٹائم ویب ڈیسک)ایک نئی ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ فالج کے وہ مریض جو کورونا میں مبتلا ہوتے ہیں ان کےفالج سے صحتیابی کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں۔

 

امریکا کے ریسرچرز نے یورپ اور شمالی امریکا کے فالج کے مریضوں کے دو گروپوں کا مطالعہ کیا۔ ان گروپوں میں سے ایک کورونا کا وکٹم تھا جبکہ دوسرا کورونا سے محفوظ تھا۔ ریسرچ میں معلوم ہوا کہ کورونا سے متاثرہ گروپ نسبتاً عمر میں کم ہے اور ان میں دماغ کی شریان پھٹنے کے امکان بھی کم ہیں، پھر بھی ان کا اموات کا تناسب زیادہ ہے۔

 

 پروفیسر پاسکل جیبور کی رہنمائی میں کی جانے والی ریسرچ میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ کووڈ کے شکار گروپ کو دو عشاریہ پانچ گُنا زیادہ ناساز گار نتائج اور فالج کے بعد شفاءیابی میں مشکلات آسکتی ہیں۔کووڈ کے بارے ابھی بہت کچھ ہے جو ہمیں معلوم کرنےکی ضرورت ہے بالخصوص اس کے کم عمر مریضوں پر اثرات پر تحقیق کرنا چاہیے۔ کووڈ کے شکار کسی فرد پر فالج کے اثرات تشویش کی بات ہے اور ہمیں اس پر ریسرچ اور اس کے علاج کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔

 

فالج، خون کی گردش میں اچانک رکاوٹ پڑنا، ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔قلبی ایشوز، کولیسٹرول کی وجہ سے بند شریانیں یا نشہ آور اشیاء کا استعمال اس بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔ معمولی فالج اکثر مستقل نقصان نہیں پہنچا پاتے اور چوبیس گھنٹوں خود ہی درست ہی ہوسکتے ہیں جبکہ فالج کا غیرمعمولی دورہ خطرناک ہوسکتاہے۔اس ریسرچ میں 575 ایکیوٹ لارج ویسیل اوکلژن کے مریضوں کے ڈیٹا پر مشاہدہ کیا گیا۔ ان میں 194 کووڈ سے متاثر لوگ تھے جبکہ 381 ایسے مریض تھے جن کو کورونا نکا مسئلہ نہیں تھا۔

 

سائنسدانوں نےسمارٹ الٹراساؤنڈڈیوائس تیارکرلی