• Friday, 30 September 2022
چین میں سانپ کی نئی قسم دریافت

چین میں سانپ کی نئی قسم دریافت

سِچوان(نیاٹائم)چین میں سانپ کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی ہے جس کے کاٹنے سے انسانی جسم میں پھیلنے والا زہر سے انسانی جسم مفلوج ہوجاتا ہے۔

 

چینی میڈیا کے مطابق گلوئیڈیس لیٹرلِس نامی یہ سنیک چین کے سِچوان صوبے میں پایا گیا ہے جو جیوژائگو نیشنل نیچر ریزرو نامی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کی ژارو وادی میں موجود ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ان سانپوں کی غذا چھوٹے ممالیے جیسے کہ چوہے پر مبنی ہوتی ہے اور یہ موسمِ گرما میں متحرک ہوتے ہیں۔ سانپ کی اس قسم کا جسم اٹھارہ اِنچ لمبا ہوتا ہے، اس کی آنکھیں موٹی ہوتی ہیں اور اس کا کلر گدلا سبز یا کتھئی ہوتا ہے۔ اس کی سکن پر گہرے کتھئی کلر کی چار آڑھی ترچھی لکیریں پائی جاتی ہیں۔یہ سرمئی بھوری پٹیاں سانپ کے ہیڈ سے دم تک ہوتی ہیں جس کے باعث اس کا نام ’لیٹرلِس‘ ہے (انگریزی لفظ lateral کا معنی خط ہوتا ہے)۔

 

اس سانپ کو تلاش کرنے والی ٹیم کے ایک ممبر ڈاکٹر شینگچاؤ شی نے بتایا کہ یہ سانپ زہرآلود ہے اور اس نسل کے سارے سانپ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اس کا کاٹنا عام بات نہیں بلکہ انتہائی دردناک ہوتا ہے اور وقت پر علاج نہ ہونے پر ممکنہ طور پر انسانی جسم مفلوج ہوسکتا ہے۔ ان سانپوں میں بلڈ کا زہر ہوتا ہے جو سوجن کی وجہ بن سکتا ہے تاہم اکثر اوقات یہ خطرناک نہیں ہوتے۔

 

جاپانی ساحل پر ڈولفن مچھلیوں کے شہریوں پر حملے