ٹریلر کافی ہے ، بیٹے کو مزید مہم جوئی کی اجازت نہیں دینگے

ٹریلر کافی ہے ، بیٹے کو مزید مہم جوئی کی اجازت نہیں دینگے

لاہور (نیا ٹائم   ) کم عمر ترین ریکارڈ ہولڈر کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کا کہنا ہے ہم نے جتنا تکلیف دہ ٹریلر دیکھا ہے وہی کافی ہے ۔ بیٹے کو مزید کسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کو عید ہمارے ساتھ ہی منانے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کریں گے ۔

کوہ پیما شہروز کاشف کے والد نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہروز کاشف اور فضل علی کیمپ تھری میں پہنچ چکے ہیں ،  اٹلی کے کوہ پیماوں نے دور بین کے ذریعے لاپتہ ہونے والے دونوں کوہ پیماوں کی نشاندہی کی ہے وہ اب خطرے سے باہر ہیں اور یہ ہمارے اطمینان کیلئے کافی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شہروز کاشف کے لاپتہ ہونے کے بعد گزرنے والے 14 گھنٹے ہمارے لیے انتہائی اذیت ناک تھے ، میں نے زندگی میں اس سے زیادہ اذیت پہلے نہیں دیکھی ، انہوں نے کہا کہ جب بات کو یہ پتا چلے کہ ان کا جوان بیٹا لاپتہ ہو گیا ہے تو ایسے میں اسے نیند کیسے آ سکتی ہے ؟

کاشف سلمان نے مزید کہا ہمارے لیے یہ سوچنا ہی تکلیف دہ تھا تاہم دونوں کوہ پیماوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھ کر مضبوطی دکھائی اور رات گزارنے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت نانگا پربت کیمپ تھری تک پہنچ گئے ۔

شہروز کاشف کے والد نے کہا کہ کوہ پیمائی میرے بیٹے کے بچپن کا شوق ہے جس سے میں اسے روک نہیں سکتا ، شہروز نے 11 سال کی عمر میں کوہ پیمائی شروع کی ۔ اس نے نانگا پربت چوٹی سر کرنے کے بعد جی ون اور جی ٹو کی مہم  پر بھی جانا ہے تاہم اب ہم شہروز کو لینے جا رہے ہیں ۔

کم عمر پاکستانی کوہ پیما کے والد نے کہا کہ میں بیٹے کو منانے کی کوشش کروں گا کہ میری خاطر ابھی اپنی اگلی مہم سے رک جائے ، اس سے کہوں گا کہ وہ جی ون اور جی ٹو کا مشن اگلے برس پر چھوڑ دے ہم نے جتنا تکلیف دہ ٹریلر دیکھا ہے وہی کافی ہے ، اس سے کہوں گا کہ اس بار رک جائےعید ہمارے ساتھ منائے اور آئندہ مہم اگلے سال مکمل کر لے ۔

واضح رہے کم عمر ریکارڈ ہولڈر کوہ پیما شہروز کاشف نے گزشتہ روز نانگا پربت سر کی تھی اور واپسی پر وہ ایک ساتھی کوہ پیما کے ہمراہ لاپتہ ہو گئے تھے تاہم آج صبح ان کا پتا چلا اور وہ بخیر و عافیت کیمپ تھری پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

 

لاپتہ ہونےوالادنیاکاکم عمرترین کوہ پیما مل گیا