ہیکر کا ایک ارب سے زائد چینیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا دعویٰ

ہیکر کا ایک ارب سے زائد چینیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا دعویٰ

بیجنگ (نیا ٹائم  ویب ڈیسک ) ہیکر نے ایک ارب سے زائد چینی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا چرانے کا دعویٰ کر دیا ، ہیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شہریوں کا ذاتی ڈیٹا شنگھائی پولیس کے ڈیٹا بیس سے چرایا ہے ۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ہیکر کی جانب سے 23 ٹی بی حجم کا ڈیٹا 10 بٹ کوائنز میں فروخت کرنے کی کوشش بھی کی جاری ہے  ۔

دوسرے لفظوں میں کہ لیں کے ایک ارب افراد کی تفصیلات کی قیمت محض ایک لاکھ 98 ہزار ڈالر لگائی گئی ہے جس میں ہیکر یہ سارا ڈیٹا دینے کو تیار ہے ۔

چینی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا میں شہریوں کے نام ، ان کے ایڈریس ، پیدائشی مقامات سمیت قومی شناختی کارڈ اور فون نمبر جیسی حساس تفصیلات بھی موجود ہیں ۔

ہیکر نے چینی شہریوں کے ڈیٹا کا ایک نمونہ بھی فراہم کیا ہے جس میں 1995 ء کے جرائم کی رپورٹس شامل ہیں ۔ جس پر کئی رپورٹرز نے دئیے گئے افراد سے رابطہ کر کے ڈیٹا کے درست ہونے کی نشاندہی بھی کی ہے ۔

تاہم ابھی تک واضح نہیں  ہو سکا کہ ہیکر نے کس طرح پولیس ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کی ۔ تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہیکر کو چینی شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی کلاوڈ کمپیوٹنگ کمپنی آلیون کے ذریعے حاصل ہوئی ، کمپنی علی بابا کے ملکیت ہے ۔

متعلقہ کمپنی ڈیٹا بیس کو پوسٹ کر رہی تھی اور علی بابا انتظامیہ یے مطابق اس معاملے کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں ۔ سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق اسے چینی تاریخ میں ڈیٹا چوری کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے ۔

 

ٹوئٹر انتظامیہ نے بھارتی حکومت کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا