بابر غوری نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا

بابر غوری نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیدیا

کراچی (نیا ٹائم ) سابق وفاقی وزیر بابر غوری نے کہا ہے کہ والدہ کی خراب طبیعت کی وجہ سے پاکستان آیا ہوں ، انہوں نے اپنے خلاف لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان سے انکار کیا ہے ۔

کراچی میں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھ پر یہ مقدمہ بھی درج ہے ۔ پاکستان سے میری غیر موجودگی میں میرے خلاف یہ مقدمہ بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں پر بھروسہ نہ ہوتا اور الزامات  میں سچائی ہوتی تو میں اس طرح سے واپس نہ آتا ۔

واضح رہے سابق وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری کو گزشتہ وز دبئی سے واطن واپسی پر جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا اور آج انہیں  انسداد دہشت گردی کی عدالت کے منتظم جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ان کی پیشی کے موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ عدالت نے سابق وفاقی وزیر کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے ۔

کراچی پولیس سابق وفاقی وزیر بابر غوری کو پولیس موبائل کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر لائی اور انہیں ہتھکڑی بھی نہیں لگائی گئی تھی ۔ پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بابر غوری اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا ملزم ہے اور اس کے خلاف سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ بھی درج ہے ۔

دوسری جانب بابر غوری کی بیٹی نے والد کی گرفتاری کے خلاف سندھ ہائیکوٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر دی ہے ۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بابر غوری کے خلاف جتنے بھی مقدمات سامنے آئے تھے ان میں حفاظتی ضمانت کروا لی تھی ۔

سندھ ہائیکورٹ نے نیب ریفرنس اور منی لانڈرنگ کیس میں بابر غوری کی حفاظتی ضمانت میں 9 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے نیب اور ایف آئی اے حکام کو بابر غوری  کی گرفتاری سے بھی روک دیا ہے ۔

 

بابرغوری کو کیوں گرفتار کیا گیا، تفصیلات سامنے آگئیں