قبائلی اضلاع کے عوام صحت کارڈ سہولت سے محروم ہو گئے

قبائلی اضلاع کے عوام صحت کارڈ سہولت سے محروم ہو گئے

پشاور (نیا ٹائم) وفاقی اور صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کی چپقلش قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام کیلئے وبال بن گئی ، وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام کیلئے صحت سہولت کارڈ کی سروس معطل کر دی گئی ۔  انشورنس کمپنی نے وفاقی کی طرف سے فنڈز نہ ملنے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کو بھی آگاہ کر دیا ۔

سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پاکستان کی طرف سے خیبر پختونخوا صحت سہولت پروگرام کے حوالے سے جاری کئے گئے ایک مراسلہ میں کہا ہے کہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 12 لاکھ خاندانوں کے نام وفاقی صحت سہولت پروگرام  سے نکالے گئے ہیں ۔ اگر صوبائی حکومت قبائلی علاقوں کے خاندانوں کیلئے بحال رکھنا چاہتی ہے تو اسے سٹیٹ لائف انشورنس کارپورشن پاکستان کے ساتھ نیا معاہدہ کرنا ہو گا ۔

سٹیٹ لائف انشورنس کے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں وفاقی حکومت نے بھی آگاہ کیا ہے کہ 30 جون کے بعد وہ قبائلی اضلاع میں پروگرام مزید جاری نہیں رکھ سکتے اس حوالے سے صوبائی حکومت رہنمائی کرے ۔

سٹیٹ لائف کارپوریشن نے خیبرپختونخوا حکومت سے پوچھا ہے کہ وفاق کی طرف سے قبائلی شہریوں کیلئے فی خاندان 7 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے بندوبستی علاقوں کے شہریوں کیلئے فی خاندان 10 لاکھ روپے مقرر کئے ہیں ۔ اگر صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں پروگرام جاری رکھنا چاہتی ہے تو اسے اس کیلئے الگ سے پریمیم ادا کرنا ہو گا ۔

مراسلہ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ یکم جولائی سے قبائلی شہریوں کیلئے صحت سہولت پروگرام کے حوالے سے مفت علاج کی سہولت بند کی جا رہی ہے ۔

 

کورونا کی تیز رفتار کے پیش نظر حکومت سندھ نے ایس او پیزجاری کردیے