طالبان امیر افغانستان کی فتح کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے

طالبان امیر افغانستان کی فتح کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے

کابل (نیا ٹائم ویب ڈیسک )افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ افغانستان کی فتح کے بعد پہلی بار عوامی سطح کی کسی تقریب میں شریک ہو گئے ۔ ملا ہیبت اللہ نے اپنے خطاب میں شرکاء  کو بیرونی امداد پر بھروسہ نہ کرنے کی ترغیب  دی ۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے پہلی بار قندھار سے دارالحکومت کابل آ کر  منعقد ہونے والے قومی جرگہ میں شرکت کی ۔ انہوں نے جرگہ سے پشتو میں خطاب بھی کیا جسے افغانستان کے سرکاری ریڈیو پر نشر کیا گیا ۔

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے جرگے میں شرکت کے موقع پر تمام موبائل فونز اور کیمرے بند کروا دئِے گئے اور کسی کو بھِ تصویر یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ واضح رہے افغان طالبان کے امیر افغانستان میں حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار قندھار سے باہر نکل کر قومی سطح پر نظر آئے ہیں ۔

انہوں نے اپنی تقریر میں خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے ملنے والی امداد کے باعث ہم بہت ساری چیزوں اور باتوں کے پابند ہو جائیں گے ۔ جس سے ہماری حقیقی آزادی کا مفہوم چھن جائے گا ۔

ملا ہیبت اللہ نے حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شروع قوانین کے نفاذ سے ہی کامیاب اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

امیر طالبان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دنیا ہمارے معاملات میں کیوں مداخلت کر رہی ہے ؟ کبھی کچھ کہا جاتا ہے ، کبھی کچھ ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیں ڈکٹیٹ نہ کرے کہ ہم نے افغانستان کو کیسے چلانا ہے ۔

 

منی پور میں بھارتی فوجیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ، 18 ہلاک