ایم ایس سی کرنے کے باوجود نوجوان چائے بیچنے پر مجبور

ایم ایس سی کرنے کے باوجود نوجوان چائے بیچنے پر مجبور

ساہیوال(نیاٹائم)پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ اورروشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں تاہم والدین کی محنت صبر اورقربانی کے بعد بھی اگرانہیں محنت کا اجر نہ ملے تو حکمرانوں سے گلہ بنتا ہے۔

 

آج بھی ملک میں ایسے بے شمار نوجوان ہیں جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی مارے مارے پھر رہے ہیں اور کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے خاندان کو سنبھالے ہوئیں ہیں۔ان ہی میں سے ایک مثال ساہیوال کے ایک لڑکے کی ہے جس نے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود حوصلہ نہ ہارا اوراپنے والدین پر بوجھ بننے کے بجائے سہارا بن گیا۔ ساہیوال کا رہائشی عذیر طارق میتھامیٹکس میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ہرجانب سے مایوس ہوکر چائے کا اسٹال لگا لیا۔

 

نیاٹائم کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے عذیر کا کہنا ہے کہ اس نے تین سال پہلے ایم ایس سی کیا تھا جس کے بعد نوکری کے حصول کیلئے ہردروازے پر دستک دی لیکن ہر جگہ سے انکار ہی ہوا۔ نوجوان نے بتایا کہ تھک ہارکراپنے خاندان  کا پیٹ پالنے کیلئے چائے کا ڈھابہ اوپن کرلیا ہے،عذیر نے بتایا کہ والد صاحب اب ضعیف ہوچکے ہیں انہوں نے ہمیں بہت محنت سے پڑھا لکھا کر جوان کیا۔

 

نوجوان نے گلہ کیا کہ پاکستان میں مجھ جیسے لوگوں کیلئے کہیں کوئی جاب نہیں ہے، بس یہی سوچ کرچائے کا دھابہ لگایا ہے کہ اپنا گزر بسر ہوسکے۔

 

ایگزیکٹیو الاؤنس کا نوٹی فکیشن کیوں روکا گیا