سرفراز اور فواد کی تنزلی،تنویراحمد نے پی سی بی کو لفظی ریمانڈ پررکھ لیا

سرفراز اور فواد کی تنزلی،تنویراحمد نے پی سی بی کو لفظی ریمانڈ پررکھ لیا

کراچی (نیا ٹائم) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر تنویر احمد نے پی سی بی کیجانب سے سینٹرل کنٹریکٹ میں سرفراز احمد کو ڈی کیٹیگری میں رکھنے پر سوالات اٹھا دیئے۔

 

سابق  قومی فاسٹ بولر تنویر احمد  کا پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا  تھا کہ سابق کپتان  سرفراز احمد چیمپئنز ٹرافی وننگ ٹیم کے کپتان ہیں اور انہیں سینٹرل کنٹریکٹ کی ڈی کیٹیگری میں ڈالناانتہائی  تضحیک آمیز رویہ ہے۔تنویر احمد نے  سرفراز احمد سے بھی سوال کیا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ  کے اس رویے پر کیوں خاموش ہیں۔جو کھلاڑی  سرفراز کی ٹیم کا حصہ تھے وہ اے اور بی کیٹیگریز میں شامل ہیں جب کہ انہیں ڈی میں رکھا گیا ہے۔سابق قومی فاسٹ بولر نے بیٹرفواد عالم کو کیٹیگری بی میں رکھنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ٹیسٹ فارمیٹ کھیلتے ہیں اور انکی کارکردگی کو دیکھیں، انہیں بی کیٹیگری میں کانٹریکٹ دینا نا انصافی ہے۔

 

تنویر احمدنے الزام  لگایا  کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم نےاپنے  دوستوں  کونوازا اورانکو  سہولت مہیا کی ورنہ فوادعالم  کو ریڈ بال فارمیٹ کے معاہدوں کی اے کیٹیگری میں ہونا چاہیے تھا۔دو روز قبل چیف سلیکٹرپی سی بی محمد وسیم نے مینز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 23-2022 کا اعلان کیا تھا  جس میں تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستانی  کپتان بابر اعظم، شاہین آفریدی، محمد رضوان، امام الحق اور حسن علی کو ریڈ اور وائٹ بال دونوں طرز کی کرکٹ کے کانٹریکٹ دئیے گئے تھے۔انکے علاوہ دس کھلاڑیوں کو صرف ریڈ بال کا کانٹریکٹ دیا گیا ہے جبکہ  ان پلیئرز میں  بیٹراظہر علی کو اے کٹیگری جب کہ فواد عالم کو بی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

 

 

جونیئر لیگ کے مینٹورزکی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں