حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ سےمتعلق فیصلے پرعطاءتارڑکی انوکھی منطق

حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ سےمتعلق فیصلے پرعطاءتارڑکی انوکھی منطق

لاہور(نیاٹائم) مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب حکومت  کے ترجمان عطا تارڑ کا کہنا ہےکہ عدالت عالیہ نے حمزہ شہباز کاوزارت اعلیٰ کیلئے انتخاب کالعدم قرار  نہیں دیا اور نہ ہی انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

 

عدالت عالیہ لاہور کےباہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے 63 اے سے متعلق تشریح میں کہا کہ جماعت کی  ہدایت کے خلاف ووٹ شمار نہیں ہوگا، عدالت نے نہ انتخاب  کو کالعدم قرار دیا ہے اور نہ نئے انتخاب  کا حکم دیا ہے۔عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ عدالت نے نہ انتخاب کالعدم قرار دیا  ہے اور نہ حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے، بطور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے فیصلوں کو تحفظ ملا ہے۔

 

عطا تارڑ کاکہنا تھاکہ پنجاب اسمبلی میں ہمارے ارکان کی تعداد 177 ہے  اور ہمیں 9 ووٹوں کی برتری  حاصل ہے، 25ارکان کو نکال بھی دیاجائے تو بھی ہمارے ارکان کی تعداد 177 ہے، ہم پرامید ہیں کہ ہم یہ رن آف انتخاب  بھی جیت جائیں گے، حمزہ شہباز شریف اس الیکشن  تک وزیراعلیٰ رہیں گے۔لیگی رہنما نے مزید کہا کہ یہ خوش آئند فیصلہ ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور  عمل درآمد بھی کریں گے، عدالتی حکم میں اہم بات یہ ہے کہ کل انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا گیا تو توہین عدالت ہوگی، اگر کسی نے ارکان کو دبانے کی کوشش کی تو حکومت نہیں عدالت ایکشن لے گی۔

 

صوبائی وزیر  نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف والے خوشی بھی منارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اپیل میں جائیں گے، ہم خوش ہیں اور مطمئن بھی  ہیں ہمارے نمبرز بھی  پورے ہیں، اب نہ تو ان کا کوئی ممبر ٹوٹ سکتا ہے اور نہ ہی  ہمارا کوئی ممبر ٹوٹ سکتا ہے۔

 

حمزہ کے بعد اگلی باری میرجعفر اورمیرصادق کی ہے،شہباز گل