• Thursday, 29 September 2022
کے پی کے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے زیر اہتمام ورکشاپ کا اہتمام

کے پی کے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے زیر اہتمام ورکشاپ کا اہتمام

پشاور(نیاٹائم)خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے زیر اہتمام یونیسیف کے مالی و تکنیکی تعاون سے سوشل ویلفیئر، ہیومن رائٹس ، عدلیہ، لیبر ڈیپارٹمنٹ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے افسران کے لئے بچوں کے حقوق کے نظام کی بہتری اور انہیں جلد انصاف و تحفظ کی فراہمی سے متعلق تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔

 

 جس کا بنیادی مقصد تمام شراکت داروں کی صلاحیت کارکو بڑھانا تھا تاکہ کسی بھی متاثرہ بچوں کے حقوق کو تحفظ مل سکے بچوں کے حقوق پرکام کرنے والے سماجی کارکن عمران ٹکر ، ڈپٹی چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان، ٹرینر تنویر جہاں اور سلیم ملک سمیت دیگر نے شرکاء کو کہا کہ خیبرپختونخوا میں بچوں کے حقوق سے متعلق موجودہ نظام مزید مربوط ، مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے کہ بچوں سے زیادتیوں کے واقعات میں کمی ہو بلکہ اگر کوئی واقعہ پیش بھی آئے تو بچوں اور ان کے والدین کو تحفظ اور بروقت انصاف مل سکے۔

 

 شرکاء نے کہا کہ 2021ء میں 360 بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے جو 2020ء کے مقابلے میں اس میں گیارہ فیصد اضافہ ھوا ہے ٹرینرز نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات کی روک تھام اورانہیں جلد انصاف کی فراہمی کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کو متحرک ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی اوران کی تحفظ ممکن ہو سکے۔

 

اس موقع پر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر کمیشن کے موجودہ چیف اعجاز محمد خان نے کہا کہ حال ہی میں صوبائ حکومت نے قانون میں ترامیم بھی کی ہے۔ اس غرض و مقصد سے تاکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے نظام میں بہتری لایا جائے تاکہ نہ صرف واقعات میں کمی ھو بلکہ متاثرہ بچوں کو انصاف اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

 

 انھوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے صوبہ کے 12 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور 8 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹس فعال اور بحال ہیں۔ جبکہ حکومتی سطح پر کوشش کی جارہی ہے کہ اس موجودہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے نظام کی رسائ تمام اضلاع تک ہو۔

 

آل پنجاب سیکرٹری ایسوسی ایشن کامطالبات کےحق میں دھرنا