آسٹریلوی بیٹر سٹیو سمتھ پاکستان میں سنچری کیوں نہ بنا سکے؟

آسٹریلوی بیٹر سٹیو سمتھ پاکستان میں سنچری کیوں نہ بنا سکے؟

 لاہور(نیا ٹائم) سابق آسٹریلوی  کپتان اور بیٹر سٹیو اسمتھ نے پاکستانی بولرز کی ریورس سوئنگ کی تعریف کی  اور کہا میں پاکستانی بولرز کی سوئنگ ہوتی گیندوں سے کافی متاثرہوں ۔

 

آسٹریلیا کے سابق کپتان اوربیٹرسٹیو سمتھ کا پاکستان میں کھیل کے تجربے سے متعلق میڈیا سے  گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ریورس سوئنگ کا سامنا کیا۔سٹیو سمتھ  نے بتایاکہ میں جب بیٹنگ کیلئے آتا تو گیند بہت زیادہ ریورس سوئنگ ہو رہی ہوتی تھی اور مجھے اندازہ ہوتا تھا کہ اگلی بال اس سے  بھی زیادہ  ریورس سوئنگ ہو گی ۔سٹیو کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ریورس سوئنگ کا سامناایک  مشکل ترین کام تھا اور پاکستان میں جس طرح کی پچز ہیں ان پر گیند بہت سوئنگ ہوتی ہے۔آسٹریلوی بلے بازنے کہا کہ فاسٹ بولر شاہین شاہ  آفریدی اور حسن علی جیسے بولرز ان پچز کیلئے بہت اچھے ہیں۔

 

سٹیو سمتھ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کھیلنے کیلئے ٹیمپو بنانے اور صبر دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے ،نئی بال کیساتھ شاٹس کھیلی جا سکتی ہیں جیسا کہ میں نے تیسرے ٹیسٹ میں کھیلیں۔آسٹریلوی بیٹر نے کہا کہ بال جوں ہی نرم ہوتا ہے تو پھر سوئنگ ہونا شروع ہو جاتا ہے  اورجب گیند سوئنگ ہوتی ہے تو پھر آپکو اپنے پلان سے ہٹنا پڑتا ہے ، پاکستان میں، میں اپنے پلانز کے مطابق کھیلا تاہم سنچریز  نہیں بناسکا۔سٹیو اسمتھ کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں زیادہ جارحانہ انداز میں نہیں کھیل سکا مگرسپنرز کو کھیلنے کیلئےمیں نے اپنی انڈر سٹینڈنگ بہتر بنائی ہے۔خیال رہے کہ رواں سال چوبیس سال بعد کینگروز ٹیم  پاکستان کے تاریخی دورے پر آئی تھی۔

 

 

شاہینوں کے دورہ سری لنکا کا شیڈول جاری کر دیا گیا