پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے دھرنا دے دیا

پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے دھرنا دے دیا

پشاور (نیا ٹائم) لیڈی ہیلتھ ورکرز خیبر پختونخواہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرین  نے گزشتہ روز  صوبائی اسمبلی چوک میں اپنے مطالبات کے لیے مظاہرہ کیا اور خیبر روڈ سمیت  اطراف کی سڑکوں کو چار گھنٹے کے لئے بندکیے رکھا۔

 

لیڈی ہیلتھ ورکرز نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو مستقل کیا جائے  اور 9 ویں  سکیل  کے ساتھ ساتھ سنیارٹی کے مطابق ان کو15واں  سکیل بھی دیا جائے  جبکہ رسک الاؤنس کنوینس الاؤنس پر ادا کیا جائے اور ای پی آئی ویکسینیشن کا کام لیڈی ہیلتھ ورکرز سے نہ لیا جائے۔مظاہرین کی قیادت لیڈی ہیلتھ ورکرز خیبرپختونخوا کی صوبائی صدر رفاسیت قمر،عشرت ملک اختر بی بی اور دیگر  کر رہی تھیں۔مظاہرین نے خیبر روڈ پر سوری پل کے مقام پر دھرنا دیااور سڑکوں کو ہر طرف سے بند کردیا جس سے پشاور بھر میں ٹریفک نظام درہم برہم ہو گیا۔ مظاہرین سے مذاکرات کے لئے دو اسسٹنٹ کمشنرز ایک پولیس ڈی ایس پی اور ایس ایچ او آئے اور خواتین قائدین کو مذاکرات کی دعوت دی۔

 

 لیڈی ہیلتھ ورکرز نے  محکمہ صحت کے مجاز سیکرٹری کی آمد تک روڈ نہ کھونے کا اعلان کیا جس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز کے صوبائی کوارڈینیٹر ڈاکٹر سعید الرحمن آئے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز خیبرپختونخوا کے قائدین کی مذاکراتی ٹیم کو  سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر نصیر احمد کے پاس لے گئے جہاں دھرنا قائدین خواتین نے آج مذاکرات کے لئے صوبائی حکومت کو وقت دے دیا  اور آج سہہ پیر تین بجے ہیلتھ سیکرٹریٹ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ز اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات ہوں گے جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس سٹرکچر اور دیگر مطالبات پر تفصیلی مذاکرات ہونگے۔خیبرپختونخوا لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صوبائی صدر رفا سییت قمر نے میڈیا کو بتایا کہ اگرصوبائی حکومت اور محکمہ صحت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو اطمینان دلایا اور مذاکرات کامیاب ہوئے تو وہ فوری طور پر اپنا دھرنا ختم کر دیں گے بصورت دیگر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

 

 

جنوبی وزیرستان میں دھماکہ