سمارٹ فونز کی مانگ میں کمی ، سام سنگ کے 5 کروڑ فونز  خریداروں کے منتظر

سمارٹ فونز کی مانگ میں کمی ، سام سنگ کے 5 کروڑ فونز  خریداروں کے منتظر

لاہور (نیا ٹائم ویب ڈیسک)بڑھتی مہنگائی اور مسائل کی وجہ سے سمارٹ فونز کی  فروخت میں بڑی کمی واقع ہو گئی ، معاشی بحران میں لوگوں کیلئے نئے سمارٹ فونز کی خریداری بھی مشکل ہو گئی ۔

مہنگائی کا اثر صف صارفین تک محدود نہیں رہا کمپنیوں کو بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سمارٹ فونز بنانے والی بڑی کمپنی سام سنگ کے سٹاک میں موجود 5 کروڑ فونز خریداروں کے منتظر ہیں ۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ فون اس وقت کمپنی کے ڈسٹری بیوٹرز کے پاس موجود ہیں جن میں بڑی تعداد گلیکسی اے سیریز کے موبائل فونز کی ہے ۔ سام سنگ کمپنی نے سال کے آغاز میں 33 کروڑ 40 لاکھ بنانے کیلئے پروڈکشن کا ہدف طے کیا تھا ۔ مگر طلب اور لوگوں کی قوت خرید میں کمی کے باعث اس تعداد کو کم کر کے 27 کروڑ کر دیا گیاتاہم ان میں سے بھی 18 فیصدسمارٹ فونز اس وقت خریداروں کے منتظر ہیں ۔ عام طور پر کمپنیوں کے پاس سمارٹ فونز کا سٹاک 10 فیصد سے کم ہو تو اسے کمپنی کیلئے " صحت مند  " خیال کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 18 فیصد موبائل فونز کے سٹاک میں موجودگی کے باعث کمپنی کیلئے بڑا مسئلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔

سام سنگ کمپنی 2022 کے آغاز میں ہر مہینے 2 کروڑ موبائل فونز تیار کر رہی تھی مگر طلب میں کمی اور سٹاک میں زیادہ فونز موجود ہونے کی وجہ سے مئی میں یہ تعداد کم کر کے ماہانہ ایک کروڑ  کر دی گئی ۔ طلب میں کمی کے بعد سام سنگ نے اپریل سے مئی کے دوران سپلائرز سے پرزہ جات کی خریداری میں بھی 30 سے 70فیصد تک کمی کی ہے ۔

واضح رہے اس وقت پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے اور لوگوں کی قوت خرید میں بھی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے سمارٹ فونز سمیت دیگر الیکٹرونکس اشیاء کی خریداری میں بھی کمی آئی ہے ۔

 

خوردنی تیل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ