سندھ اسمبلی میں

سندھ اسمبلی میں "بکری" کہاں سے آئی ؟

کراچی (نیا ٹائم )سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن دعا بھٹو کی حکومتی اراکین کے ساتھ تکرار ہو گئی ، دعا بھٹو نے کہا کہ ان سے جو دوپٹہ چھینا گیا دراصل وہ بختاور بھٹو سے چھینا گیا ہے ، جس پر حکومتی جماعت کے وزیر مکیش چاولہ نے جواباً کہا کہ دعا بھٹو کے شوہر ہماری خواتین کے متعلق جو باتیں کرتے رہے  کیا وہ ان کیلئے ڈوب مرنے کا مقام نہیں تھا ؟ دعا بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی شرمیلا فاروقی کو " بکری" کہہ دیا ۔

اجلاس کے دوران صوبائی وزیر مکیش چاولہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر ریحانہ لغاری کی صدارت میں ہوا جس میں پاکستان تحریک انسآف کی رکن اسمبلی دعا بھٹو نے تقریر کرتے ہوئے کہا ایک ایم پی اے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ پر جملے کسے ، انہوں نے کہ بجٹ میں سندھ پولیس میں آنسو گیس کی خریداری کیلئے 13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں کیا یہ آنسو گیس شیل ہماری ماوں بہنوں پر چلانے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پیپلزپارٹی بینظیر بھٹو کی نہیں بلکہ زرداری کی پارٹی ہے ۔

جس پر سندھ اسمبلی میں  شور شرابہ شروع ہو گیا ، ڈپٹی سپیک نے کہا کہ پہلے طے ہوا تھا کہ کسی لیڈر شپ کے خلاف کسی طرح کی بات نہیں ہو گی ۔ اسمبلی خطاب میں پیپلز پارٹی کے رکن مکیش چاولہ نے کہا کہ اس طرح کی کوئی تقریر نہیں ہو سکتی ، سپیکر صاحبہ دعا بھٹو کامائیک بند کروائیں ،انہوں نے کہا کہ دعا بھٹو کے شوہر یہاں ہماری خواتین کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں ، کیا اس وقت ان کیلئے ڈوب مرنے کا مقام نہیں تھا ؟

تحریک انصاف کے رکن فردوس شمیم نقوی نے مکیش چاولہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی کی بات کریں جس پر مکیش چاولہ نے جواباً انہیں کہا کہ زیادہ ٹر ٹر نہ کریں ۔

ڈپٹی سپییکر نے دعا بھٹو کا مائیک بند کروایا تو پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے اسمبلی میں احتجاج شروع کر دیا جس پر مکیش چاولہ نے کہا کہ ان کے مرد اراکین سے درخواست ہے کہ ایسی حرکتیں نہ کریں ، دھمکیاں نہ دیں کہ تقریر نہیں کرنے دیں گے ،میں دیکھتا ہوں کیسے تقریر نہیں کرنے دیں گے ۔

دعا بھٹو کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے بولنے کی کوشش کی تو دعا بھٹو نے کہا " اس بکری کو تو چُپ کروائیں ۔ "

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن کلثوم چانڈیو اور پاکستان تحریک انصاف کی دعا بھٹو کے درمیان لفظی نوک جھونک بھی ہوئی ۔ کلثوم چانڈیو نے دعا بھٹو کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اپنے باپ کی ہے تو مجھے ہاتھ لگا کر دکھائے ۔ انہوں نے دعا بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ اجرک کی بات کرتی ہیں ، کل تک ٹی وی پر ڈانس کرتی تھیں ۔

 

سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر اساتذہ کا دھرنا جاری