بھارتی حکومت مسلمان دشمنی میں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی

بھارتی حکومت مسلمان دشمنی میں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی

نئی دہلی (نیا ٹائم ویب ڈیسک)بھارت میں حکومتی جماعت بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے پیغمبر اسلام اور اسلام کے خلاف گستاخانہ بیانات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی آوازیں دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

بھارتی حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے کیلئے ریاست آسام کے تین مسلم اکثریتی اضلاع میں پابندیوں اور امتناعی احکامات کا نفاذ کر دیا گیا ہے ۔ آسام کے تینوں اضلاع میں مسلمانوں کے جلوسوں ، ریلی ، دھرنے اور پوسٹرز کی تقسیم پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔

دوسری طرف اتر پردیش میں گرفتار مسلمان سماجی رہنما جاوید احمد پر غیر قانونی ہتھیار اور قابل اعتراض پوسٹرز رکھنے کے الزامات عائدکر دئیے گئے ہیں ۔ گزشتہ روز الہٰ آباد میں سماجی رہنما جاوید احمد کا گھر بھی مسمار کر دیا گیا ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے گھر گرانے کی کارروائی کو معمول قرار دے دیا ہے ، سماجی کارکن جاوید احمد کا گھر گرائے جانے کے خلاف وکلاء نے الہٰ آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی ہے ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جاوید احمد کا گھر ان کے نہیں بلکہ ان کی اہلیہ کے نام پر ہے اور گھر گرایا جانا غیر قانونی ہے ۔ گھر گرانے سے قبل کسی بھی طرح کا کوئی نوٹس بھی نہیں بھجوایا گیا ۔

گھر گرائے جانے اور بے گھر ہونے کے باوجود طالب علم رہنما اور جاوید احمد کی صاحبزادی آفرین فاطمہ نے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ آفرین فاطمہ کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بھی چل رہے ہیں ۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں بھی آفرین اور ان کے والد کے حق میں یکجہتی مارچ کیا گیا ۔

کیرالا میں بھی مسلمانوں نے توہین آمیز اور گستاخانہ بیانات کے خلاف مظاہرہ کیا جس پر پولیس کی جانب سےلاٹھی چارج کیا گیا اور طالب علم رہنما عائشہ رینا کو پولیس اہلکار سڑک پر گھسیٹ کر لے گئے اور تھانے میں بھی ان کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کیا گیا ۔

واضح رہے گستاخانہ بیانات دے کر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی بی جے پی ترجمان کے خلاف تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔ اب تک احتجاج کے جرم میں ملک بھر سے چار سو کے قریب مسلمان رہنماوں اور مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔

 

بحیرہ احمر میں بھیڑوں سے بھرا ہوا بحری جہاز ڈوب گیا