پیوٹن کی کامیاب حکمت عملی ، روسی کرنسی نے یورو اور ڈالر کو پچھاڑ دیا

پیوٹن کی کامیاب حکمت عملی ، روسی کرنسی نے یورو اور ڈالر کو پچھاڑ دیا

ماسکو (نیا ٹائم ویب ڈیسک )روسی صدر پیوٹن کی کامیاب حکمت عملی سے روسی کرنسی روبل کی قیمت میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، روبل نے یورو اور ڈالر کو پچھاڑ دیا ہے ۔

روسی روبل گزشتہ 5 سال کی بلند ترین سطح پر موجود ہے ، روس یوکرین جنگ کے بعد روس نے یورپی کمپنیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اب گیس اور تیل کی ادائیگی صرف روبل میں ہی وصول کرے گا ، جس کے بعد کمپنیوں کی طرف سے ہونے والی ادائیگیوں سے روبل کی قیمت میں بہتری آئی ہے ۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روس یوکرین جنگ کے بعد یکم اپریل سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے کے احکامات دئیے تھے ۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ غیر ملکی کمپنیاں روبل میں ادائیگی نہیں کریں گی تو ان کے ساتھ سارے معاہدے منسوخ کر دئیے جائیں گے ۔

دو روز قبل 20 مئی تک روبل کی قیمت یورو کے مقابلے میں 9 فیصد جبکہ ڈالر کے مقابلے میں 4 فیصد بڑھ گئی ہے جس کے بعد رونسی کرنسی2022 ء میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کنے والی کرنسیوں میں شامل ہو گئی ہے ۔

قیمت میں بہتری کے ساتھ ہی ایک یورو 61٫10 جبکہ ڈالر 59٫10 روبل کا ہو گیا ہے ۔ اس سے قبل یہ سطح جون 2015 میں دیکھی گئی تھی ۔

2022کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی اس وقت جب روس کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے ۔

روسی حکومت نے 19مئی کو کہا تھا کہ اس کی گیس کمپنی گیس پروم کے 54 صارفین نے گیس پروم بینک میں اکاونٹس کھولے ہیں اور یورپی کمپنیوں کی طرف سے گیس سپلائی کیلئے بروقت ادائیگیوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ روبل پر حکومتی کنٹرول ،، درآمدات میں کمی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے روبل کی قیمت بڑھنے کی وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہے ۔

واضح رہے حال ہی میں جرمنی اور اٹلی نے اپنی کمپنیوں کو روسی گیس خریداری اور ادائیگی کیلئے روبل اکاونٹس کھولنے کی اجازت دی تھی ۔

جرمنی اور اٹلی نے برسلز سے مشاورت کے بعد اہم تجارتی فیصلے کئے ہیں جس کے بعددونوں ممالک نے اپنی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کیلئے روبل اکاونٹس کھولنے کی اجازت دی ہے ۔

31 مارچ 2022 ء کو روبل میں ادائیگیوں کے احکامات کرتے ہوئے روسی صدر نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا دوسروں کے خرچے پر اپنے مسائل حل کرنے کی کوششیں کرے گا اور عالمی عدم استحکام سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کرے گا ۔

روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کے خلاف معاشی جنگ طویل عرصے سے جاری ہے ، روس کے خلاف پابندیوں کا بنیادی مقصد ہی اس کی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے ، مغربی ممالک پہلے سے پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا تحے اور پابندیوں کیلئے نئی وجوہات تلاش کر رہا تھا ۔

یوکرین پر روسی حملے کے بعد امریکا ، برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے روس پر معاشی پابندیاں لگانے کا اعلان  کیا تھا ، مگر یورپی ممالک کے روس سے گیس کی خریداری میں کسی طرح کی کمی نہیں آئی ہے ۔ گیس پروم کے 50 سے زائد بین الاقوامی خریدار روبل اکاونٹس کھلوا چکے ہیں ۔

 

روس نے فن لینڈ کی مشکلات میں اضافہ کردیا