کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ریکارڈ کمی

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ریکارڈ کمی

اسلام آباد(نیاٹائم)اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کرنٹ اکاونٹ خسارے میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

 

مرکزی بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پچھلے ماہ اپریل 2022 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 62 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے مارچ 2022 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک ارب ڈالرسے اوپر چلا گیا تھا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی کے باعث عید پر ترسیلات زر میں اضافے کو قرار دیا گیا۔بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ خسارے میں کمی کی دوسرا باعث  ماہانہ درآمدات میں نسبتا کم ہوا ہے۔ پچھلے سال جولائی تا رواں سال اپریل کرنٹ اکاونٹ خسارے کا حجم 13 ارب 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔رپورٹ کے مطابق پچھلے  مالی سال اسی مدت میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ صرف 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

 

خیال رہے کہ رواں ماہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان بھیجی جانے والی فارن کرنسی کی وجہ تاریخ میں پہلی بار اپریل کے مہینے میں ترسیلاتِ زر تین ارب ڈالر سے بھی اوپر چلی گئی تھیں۔ پاکستان کا ماہانہ غیر ملکی زرمبادلہ تاریخ میں پہلی دفعہ تین  ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مالی سال 2022 کے پہلے دس  ماہ کے دوران زر مبادلہ کے ذخائر پچھلے  سال کے مقابلے میں 7.6 فیصد سے 26.1 ارب ڈالر رہا۔

 

مرکزی بینک کے مطابق چھ مئی کو ختم ہونے والے بزنس  ہفتے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب 38 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا میں بسنے والے پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئیں۔

 

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کےسامنے گھٹنےٹیک دیئے