پنجاب میں افسرشاہی کی موجیں

پنجاب میں افسرشاہی کی موجیں

لاہور (نیاٹائم) مسلم لیگ ن کے اقتدارمیں آنے کے بعد بیوروکریسی میں اکھاڑپچھاڑجاری ہے۔ پنجا ب میں تبادلوں کےدوران ایک بار پھر میرٹ کی بجائے پسند نہ پسند کی بنا پرتقررو تبادلے کیے جا رہے ہیں،مجازاتھارٹی کی پسند نہ پسند کی پالیسی کے نتیجے میں نیک نا م آفیسرز کاکیریئر متاثرہونے لگاہے۔

 

بعض ایسے "قابِل "آفیسرز بھی ہیں جو ہر حکو مت میں منظور نظر بن جا نے کےہُنر میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے ، سابق حکو مت میں بھی پر کشش نشستوں کے مزے لینے والےمو جودہ حکو مت میں بھی فیصلہ سازوں کی آنکھ کا تا را بن چکےہیں اور کئی کئی عہدے سنبھا لے ہو ئے ہیں ۔ تقرروتبادلوں کےدوران پسند نہ پسند کی وجہ سے جہاں ایک طرف گورننس کے مسائل اور بد انتظامی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں تو دُوسری طرف پنجاب کی افسر شاہی میں شدید بے چینی پا ئی جا تی ہے ۔

 

حکو مت کے غلط اقداما ت سے مو جو دہ حکو مت کی نیک نا می پر بہت سارےسوا لیہ نشا ن اٹھنے لگے ہیں ۔ مثال کے طورپرکمشنر لاہور کیپٹن ریٹا ئرڈ عثمان جنہیں ایک طرف لا ہور ڈویژن کی حکمرا نی دیدی گئی ہے اس کیساتھ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کا اضا فی چا رج بھی تھمادیا گیا ہے ۔ایڈمنسٹریٹر میٹرو کا رپوریشن لا ہور کا چارج بھی کیپٹن صاحب کے پاس ہے اور رنگ روڈ اتھا رٹی کےچیئرمین بھی کمشنر صاحب موصوف ہی ہیں اور چیف ایگزیکٹو بھی ۔

 

کیپٹن عثمان وہ آفیسر ہیں جو پچھلے کئی برسو ں سےمسلسل پُرکشش عہدوں پر متمکن رہے ہیں شہبا ز شریف کے دور میں ڈی سی لاہور اور ڈی جی فوڈ اتھا رٹی کے منصب پرفائزرہے ،پی ٹی آئی کی حکو مت میں بھی انہیں خوب نوازاگیا ،بزدارسرکارکے دوران کیپٹن عثمان سیکر ٹری صحت بھی رہے،انہی کےدورمیں ہی اُنہیں کمشنر لاہور لگایا گیا ۔پی ٹی آئی کے بعد(ن )لیگ کی حکو مت آئی توکیپٹن عثمان کو 5 بڑے عہدوں سے نواز دیا گیا ۔

 

اسی طرح 10کے قریب مختلف سیکرٹریزکو ایک ہی وقت میں مختلف محکمو ں کے ایڈیشنل چا رج دیئے گئے ہیں ،اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ حکومت جس کی سربراہی حمزہ شہباز کر رہے ہیں ایک مرتبہ پھر افسر شاہی کے شکنجے میں پھنستی جا رہی ہے ، آبادی اور مسائل کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کو ایڈہاک ازم کی بجائے میرٹ اور مستقل بُنیادوں پرقابل افسران ہی بہتر طریقے سے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

دوسری مثال گریڈ 20 کےافسر علی سرفراز حسین کی ہے جنہیں پنجاب کے 2 بڑے محکموں سیکرٹری ہاؤسنگ اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایڈیشنل چارج دیا گیا ہے ۔اسی طرح اور بھی کئی من پسند افسروں کو مختلف محکموں کے ڈبل ڈبل چارج دے کرپسند اورنہ پسند کی تفریق واضح کی جارہی ہے۔