"کم کپڑے کیوں پہنے؟" مقامی لوگوں کا طالب علم پر تشدد

مانسہرہ (نیاٹائم) گزشتہ شب ہزارہ یونیورسٹی کے طالب علم شیراز پر مقامی لوگوں نے شدید تشدد کیا. شیراز کو زخمی حالت میں ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا اور واقعے کی ایف آئی آر شنکیاری تھانے میں درج کر لی گئی.

 

شیراز کا تعلق ضلع شانگلہ تحصیل پورن سنیلہ سے ہے. ہزارہ یونیورسٹی میں قانون کے طالب ہیں. گزشتہ شب جامعہ کی حدود میں شارٹس پہنے ٹہل رہے تھے کہ مقامی لوگوں نے چاقو اور تیز دھار آلات کے وار سے شدید زخمی کر دیا. شیراز کو زخمی حالت میں ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس منقل کیا گیا جہاں اُن کا علاج جاری ہے.

 

مانسہرہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے. پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی.

 

پختون سٹونٹس فیڈریشن(ہزارہ یونیورسٹی) کے انفارمیشن سیکٹری معاذ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جامعہ کے طالب علموں کی جانب سے اِس واقعے کے خلاف روڈ بلاک کیا گیا اور اپنا احتجاج ریکارد کیا گیا.معاذ یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں. اِس سے قبل بھی طلباء پر تشدد کیا گیا ہے.

 

شانگلہ کی عوام نے ملزمان کو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے. عوام کا کہنا تھا کہ شانگلہ کے پہاڑوں سے نکل کر طلباء اعلیٰ تعلیم کی غرض سے دور دراز جامعات میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں. اگر اِسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلباء تشدد کا نشانہ بنتے رہے تو اِن حالات میں اُنکی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا؟

 

ہاسٹل انتطامیہ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور شیراز کی تیمارداری کے لئے پرووسٹ ڈاکٹر سجاد ہسپتال گئے اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی.

 

پنجاب میں ہزاروں افراد ڈائریا اور ہیضے کاشکار