سوشل میڈیا کے استعمال سے ڈپریشن کا شکار ہونے والوں کو کیا کرنا چاہیے

سوشل میڈیا کے استعمال سے ڈپریشن کا شکار ہونے والوں کو کیا کرنا چاہیے

لاہور(نیاٹائم)اگرآپ کوسوشل میڈیا نیٹ ورکس کا استعمال کرنے کی وجہ سے ڈپریشن یا فکرمندی کا شکارہوجاتے ہیں تو ذہنی صحت کو بگڑنے سے بچانے کے لیے چند دن تک سوشل میڈیا سے دوری اختیار کریں۔

 

برطانیہ کی باتھ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا استعمال نہ کرنا مزاج پر خوشگواراثرات ڈالتا ہے اور ذہنی صحت کو زیادہ بڑے نقصان سے بچا کرخوشگوار رکھتا ہے۔ درحقیقت صرف ایک ہفتے تک مختلف سوشل میڈیا ٹولز جیسے فیس بک، ٹوئٹر اورانسٹاگرام وغیرہ سے دوری بھی ڈپریشن کی علامات کی شدت کو کم کرسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا سے دور رہنے سے جو وقت بچتا ہے ان کو زیادہ مثبت سرگرمیوں کے لیے وقف کیا جاسکتا ہے۔

 

اس تحقیق میں 18 سے 72 سال کی عمر کے 154 سوشل میڈیا یوزرکی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور ان کے دو گروپس کیے گئے۔پہلے گروپ کو ایک ہفتے تک سوشل میڈیا سے دوررہنے کا کہا گیا جبکہ دوسرے کو معمول کے مطابق ان نیٹ ورکس کا استعمال جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔تحقیق سے پہلے ان افراد کے اسکرینوں کے سامنے گزارے جانے والے وقت کے اعدادو شمار بھی اکٹھے کیے گئے اور پتہ چلا کہ وہ اوسطاً ہرہفتے آٹھ گھنٹے سوشل میڈیا سائٹس پروقف ہیں۔

 

نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد سوشل میڈیا سے ایک ہفتے تک دور اجتناب کرتے رہے ، ان کا اسکرین کے سامنے گزارے جانے والا وقت اوسطاً اکیس منٹ رہا ۔ریسرچ میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال نہ کرنے والے افراد کی انزائٹی اور ڈپریشن کی علامات میں کافی بہترہوئی۔ اب محققین کی طرف سے یہ دیکھا جائے گا کہ سوشل میڈیا سے وقفہ لینے سے مرتب اثرات کا دورانیہ کب تک قائم رہتا ہے۔

 

رواں سال پولیو کا تیسرا کیس سامنے آگیا