عظیم جنگجو خوشحال خان خٹک کے مجسمے کی بے توقیری

عظیم جنگجو خوشحال خان خٹک کے مجسمے کی بے توقیری

پشاور(نیا ٹائم)نوشہرہ میں مرکزی شاہراہ پر پشتو کے عظیم شاعر اور جنگجو خوشحال خان خٹک بابا کے نصب مجسمے  کے  نامعلوم افراد نے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے۔

 

نا معلوم  افرادکی  جانب سے صرف  مجسمے کے ہا تھ اور پاوں ہی نہیں  بلکہ جس گھوڑے پر خوشحال خان خٹک کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے اس گھوڑے کی دم بھی کاٹ دی گئی ہے۔ عظیم جنگجو شاعر کے مجسمہ کی بے توقیری کرنے پر نہ تو صوبائی حکومت اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ  کی جانب سے  کوئی ایکشن لیا گیا ہے ۔ نوشہرہ کینٹ میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے مغل دورکے شاعر، ادبی شخصیت خوشحال خان خٹک کی خدمات کے اعتراف میں پتھر سے ان کا مجسمہ تیار کرکے مرکزی  شاہراہ پر نصب کیا گیا تھا  مگر بعض نامعلوم شرپسند عناصر نے اس عظیم شخصیت کے مجسمہ کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جبکہ ان کے ہاتھ میں دی گئی تلوار کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔

 

 نوشہرہ کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام  ٹوٹے ہوئے مجسمہ کو نکال کر دوبارہ اس کی اصل شکل میں بحال  کرنے میں لگے ہیں جبکہ نوشہرہ کنٹونمنٹ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ اس بار مجسمہ اس قدر مضبوط بنایا جائے گا کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچائے مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس یا پھر صوبائی حکومت نے عظیم شاعراور جنگجو کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف کسی قسم کی کوئی  کارروائی نہیں کی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چار ماہ قبل بہاولپور میں ہاکی کے سابق اولپمئین سمیع اللہ خان کے  مجسمے سے بھی ہاکی اور گیند کو چرا لیا گیا  تھا تاہم  ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے چور کو گرفتار بھی کر لیا تھا اور مجسمے کو دوبارہ اصل شکل میں بحال بھی کر دیا تھا۔

 

 

خیبرپختونخوا حکومت نے بین الاقوامی اداروں سے کتنا قرض لیا؟