پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار سمیت متعدد پارٹی ورکروں کو دھر لیا گیا

پی ٹی آئی رہنماء عثمان ڈار سمیت متعدد پارٹی ورکروں کو دھر لیا گیا

سیالکوٹ(نیاٹائم)پولیس نے پی ٹی آئی کے جلسے کی پرمیشن نہ ملنے کے باوجود سی ٹی آئی گراؤنڈ میں انتظامات کرنے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

 

پولیس نے جلسہ گاہ سے رہنما پی ٹی آئی علی اسجد ملہی اور سابق ڈی جی اینٹی کرپشن اسلم گھمن کو بھی گرفتار کیا۔ضلعی انتظامیہ نے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کی پی ٹی آئی کی درخواست خارج کردی تھی لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کی طرف سے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کی تیاریاں جاری تھیں۔جلسہ گاہ سے سامان ہٹائے جانے پر پی ٹی آئی ورکرز کی طرف سے مزاحمت کی گئی جس پر پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کرنا پڑی۔

 

تحریک انصاف کے کارکنوں کے منتشر ہونے کے بعد کرین کے ذریعے جلسہ گاہ سے سامان کو ہٹایا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کا اس متعلق کہنا ہے کہ مالکان کی رضا مندی کے بغیر کسی کو جلسے کی پرمیشن نہیں دے سکتے، سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کے میسج پر مسیحی کمیونٹی سراپا احتجاج ہے، اجازت کے بغیر جلسہ کرنے سے امن و امان خراب ہوسکتا ہے، سی ٹی آئی گراؤنڈ کے علاوہ کسی اور مقام پر جلسہ کرنے کہ درخواست دی جائے۔

 

دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ پرامن جلسہ ہمارا رائٹ ہے، کپتان آج ضرور سیالکوٹ آئیں گے۔ڈی پی او سیالکوٹ کا پوائنٹ آف ویو ہے کہ یہ مسیحی برادری کی جگہ ہے، مسیحی برادری نےکہا کہ ہماری جگہ پر پولیٹیکل جماعت جلسہ کر رہی ہے، عبادت گاہ کے سامنے زبردستی جلسے کی پرمیشن نہیں دے سکتے۔ڈی پی او سیالکوٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ان کو جلسے کے لیے متبادل جگہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

 

مسیحی کمیونٹی نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، ہائیکورٹ کا آرڈر ہے کہ گراؤنڈ میں جلسے کو روکیں، ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی اجازت دینے سے منع کرتے ہوئے کہا ہمارے پاس احکامات ہیں کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی نے بھی تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے کو ضلعی ایڈمنسٹریشن نے روک دیا ہے، کرسچن کمیونٹی نے درخواست دی تھی کہ گراؤنڈ میں مذہبی رسومات ہوتی ہیں، سی ٹی آئی گراؤنڈ میں کبھی بھی سیاسی اکٹھ نہیں ہوا۔

 

نوازشریف واپس کب آئیں گے، وزیرقانون نے بتادیا