مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر فیصلہ دو سے تین ہفتوں میں ہونے کا امکان

مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر فیصلہ دو سے تین ہفتوں میں ہونے کا امکان

اسلام آباد (نیا ٹائم  ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ دو سے تین ہفتوں میں کرنے کا کہہ دیا ۔ اپیلوں پر سماعت 2 جون سے باقاعدہ کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ آئندہ ان اپیلوں پر سماعت باقاعدگی سے ہو گی ۔ مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو بھی سہولت دی جائے تاکہ وہ واپس آ کر عدالت کے سامنے پیش ہو سکیں ۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض پر عدالت نے نواز شریف کی اپیلوں کا معاملہ الگ کر دیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس مِں مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزاوں سے متعلق اپیلوں پر سماعت کی ۔

مریم نواز اور کیپٹن صفدر اپنے وکلاء عرفان قادر اور امجد پرویز کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ نیب کی طرف سے عثمان راشد چیمہ اور سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے ۔

مریم نواز کے وکیل عرفان قادر ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ عدالت نے نیب کے سامنے سوالات رکھے تھے جن کا وہ جواب نہیں دے سکے ۔ نیب نے نئے پراسیکیوٹر بھی رکھے جنہوں نے تیاری کیلئے وقت مانگا تھا تاہم آج وہ دونوں پراسیکیوٹرز بھی چلے گئے ہیں ۔ عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ دلائل مکمل ہو چکے ہیں لہٰذا مزید تاخیر نہ کی جائے ۔ مریم نواز کی بریت کی متفرق درخواست پیش کرتا ہوں جس میں اس کیس کے حوالے سےسپریم کورٹ کی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر ہے ۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر شواہد موجود نہیں تو کیس تو ایک دفعہ پڑھنا پڑے گا ۔ ہم آج سماعت ملتوی کرتے ہیں مگر آئندہ سے اس کیس کو مستقل بنیادوں پر سنیں گے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب اس کو شروع کریں تو درمیان میں کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔ کوشش کریں گے کہ جون میں شروع کر کے اس کیس کو دو سے تین ہفتوں میں نمٹا دیں  ۔

عرفان قادر ایڈووکیٹ نے عدالت سے نواز شریف کے عدالت میں پیش ہونے کی سہولت دینے کی استدعا کی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اس پر اعتراض کیا کہ وہ معاملہ تو عدالت کے سامنے ہے ہی نہیں ۔ اس لیے اس پر جانا مناسب نہیں ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی ۔

 

پشاور کور سے متعلق سیاستدانوں کے بیانات ، آئی ایس پی آر کا سخت جواب