سندھ میں پانی کا بحران کسانوں کیلئے پریشان کا باعث بن گیا

سندھ میں پانی کا بحران کسانوں کیلئے پریشان کا باعث بن گیا

کراچی(نیاٹائم)سندھ میں پانی کے ذخائرمیں خطرناک حد تک کمی کے باعث وادی مہران میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جس سے کپاس کی فصل متاثر ہورہی ہے۔

 

 بیراجوں میں کم لیول کے باعث کاشت کیلئے پانی کی فراہمی کے عمل کو روک دیا گیا ہے، جبکہ کیرتھر کینال، دادو کینال اوررائس کینال کو سیل کردیا گیا ہے، سندھ کے پیک سیزن، موسم گرما کی فصلوں کی کاشت کے دوران کینال کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک کم ہے، جہاں پانی کی کمی خاص طور پر کپاس کی فصل کو متاثر کررہی ہے۔ سندھ میں کپاس کی فصل کی پیدوار میں 2020 میں اٹھارہ لاکھ گانٹھوں کے مقابلے میں 2021 میں پینتیس لاکھ گانٹھوں کی پیدوارکے بعد بہتری آئی تھی۔

 

محکمہ زراعت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق کپاس کی فصل کی بوائی کا ٹارگٹ چھ لاکھ چالیس ہزارایکڑ تھا جس کے مقابلے چھ مئی تک صرف 2 لاکھ 43 ہزار 200 ایکڑ پر بوائی ہوسکی ہے۔ پچھلے سال اسی عرصے میں فصل کی بوائی 3 لاکھ 78 ہزار800 ایکڑ پر ہوئی تھی جو کہ رقبے میں اکیس فیصد کم ہے، اگر پانی کی شدید کمی اسی طرح رہی تو اس میں مزید کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورت حال برقراررہی تو سندھ میں قحط سالی کا خطرہ پیدا ہونے کے چانسز ہوجائے گے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے کپاس اور دیگر فصلوں کی کاشت کیلئے پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے، دوسری طرف ٹنڈ والہ یارمیں نہریں خشک ہونے سے زمینیں بنجرہورہی ہیں۔ کاشتکاروں کی طرف سے بورنگ کے استعمال کے بعد زیرزمین واٹر لیول نیچے آگیا ہے۔ سکھر بیراج کے انچارج کنٹرول روم کے مطابق بارشیں کم ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

 

یوریا کھاد اب چھ گنا مہنگی ملے گی