دعا زہرا اغوا کیس ، تفتیشی افسر نے چالان جمع کروا دیا

دعا زہرا اغوا کیس ، تفتیشی افسر نے چالان جمع کروا دیا

کراچی (نیا ٹائم) شہر قائد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی 14 سالہ لڑکی دعا زہرہ کے مبینہ اغوا سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروا دیا ۔ تفتیشی افسر نے چالان میں ملزم ظہیر احمد ، نکاح خواں غلام مصطفیٰ اور دو گواہوں شہزاد اور اصغر علی کو مفرور قرار دے دیا ۔

پولیس چالان کے مطابق مقدمہ میں کم عمری کی شادی ، سہولت کاری سمیت سندھ چائلڈ ریسٹرنٹ میرج ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ چالان میں کہا گیا ہے کہ دعا زہرہ کی تلاش کیلئے متعلقہ علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی جبکہ مدعی مقدمہ سمیت خاندان کے دیگر افراد کے زیر استعمال تین موبائل فونز کا سی ڈی آر بھی حاصل کیا گیا ۔

چالان کے متن کے مطابق موبائل فونز کے سی ڈی آر سے کوئی بھی مفید معلومات نہیں  مل سکیں اور نہ ہی دیگر اداروں سے لی گئی معاونت سے کوئی کامیابی حاصل ہو سکی ۔

پولیس چالان میں کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ دعا نے لاہور میں ظہیر نامی لڑکے سے شادی کر لی اور نکاح نامہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ۔ مجسٹریٹ ماڈل ٹاون لاہور کے حکم پر دعا زہرہ کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ، جس میں اس نے اغوا کی تردید کرتے ہوئے مرضی سے 17 اپریل کو شادی کرنے کی تصدیق کی ، جبکہ اس نے بیان دیا کہ کراچی جانے سے اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔

عدالت میں جمع کروائے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق بھی دعا زہرہ کی عمر 14 برس ہے جبکہ ملزم ظہیر نے اس کو بہلا پھسلا کر زیادتی کی نیت سے اغوا کیا ہے ۔

دوسری طرف تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ دعا زہرہ کا میڈیکل بھی کروانا ضروری ہے جس کیلئے حتمی چالان جمع کروانے کیلئے مزید 15 روز کی مہلت دی جائے ۔

واضح رہے کراچی سے لاپتہ ہونے والے کم سن لڑکی دعا زہرہ پاکپتن سے ملی تھی اور اس نے لاہور کے رہائشی ظہیر احمد سے شادی کی تھی ۔ دعا زہرہ کے والد نے بیٹی کی بازیابی کیلئے سندھ ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی ہے ۔

 

شیخ راشد شفیق کیس کی سماعت 9مئی تک ملتوی