جنوبی پنجاب کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری

جنوبی پنجاب کے باسیوں کے لیے بڑی خوشخبری

ملتان(نیا ٹائم)چیف جسٹس پاکستان فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس محمد نور مسکان زئی نے ملتان میں فیڈرل شریعت کورٹ رجسٹری کا نیو جوڈیشل کمپلیکس میں افتتاح کر دیا۔

 

 جنوبی پنجاب کے باسیوں کے لئے بڑی خوشخبری آ گئی ۔ چیف جسٹس پاکستان فیڈرل شریعت کورٹ جسٹس محمد نور مسکان زئی نے فیڈرل شریعت کورٹ رجسٹری کا نیو جوڈیشل کمپلیکس میں افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب کے بعد چیف جسٹس نور محمد مسکان زئی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے لئے عزت کی بات ہے کہ میں آج جنوبی پنجاب کے قلب مدینہ الاولیا ملتان میں موجود ہوں۔میں نے 2019 میں یہ منصب سنبھالا تھا  اور کسی بھی معاشرے کے قیام کے لئے انصاف کا حصول  ناگزیر ہے۔ چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ  نے کہا کہ حضرت علی کا فرمان ہے کوئی بھی معاشرہ کفر کے بغیر تو زندہ رہ  سکتا ہے لیکن  ظلم کے بغیر نہیں۔

 

چیف جسٹس  محمد نور مسکان زئی  کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کا کام انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے ۔میں نے فیڈرل شریعت کورٹ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا 1980 سے مقدمات زیر سماعت تھے۔ملک کے بہت سارے پسماندہ اور دور دراز علاقوں سے وکلاء اپیل یا نگرانی کے لئے سینکڑوں میل سفر کر کے آتے تھے اس لیے میں نے پختہ ارادہ کیا تھا  کہ لوگوں کو انصاف سستا اور گھر کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔ چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ نے کہا کہ فوجداری مقدمات میں 2018 سے  اب تک کوئی مقدمہ بھی  زیر سماعت نہیں رہا اور شریعت پٹیشن اب 2013 سے پہلے کوئی نہیں ہے۔

 

چیف جسٹس  محمد نور مسکان زئی  کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں تربت، کراچی میں سکھر ، کے پی  میں سوات اور جنوبی پنجاب میں ملتان میں شریعت کورٹ  کا افتتاح کیا ہے۔میں نے اپنی ابتدائی تعلیم جن اساتذہ سے پائی ان کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہی تھا۔میں جب اس منصب پر آیا تو جنوبی پنجاب کی پہچان کھوسہ صاحب نے مجھے لگایا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملتان مدینتہ اولیا  کی زمین ہے ہے اس لئے فیڈرل شریعت کورٹ کا افتتاح ملتان سے کیا اور ہم کوشش کرینگے یہاں عارضی طور پر بینچ کی صورت میں کیسز کی سماعت بھی کرسکیں۔تقریب میں سینئر جج لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر سمیت دیگر ججز بھی شریک ہوئے۔