• Friday, 30 September 2022
ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت ،ڈیڑھ سالہ بچی جان کی بازی ہار گئی

ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت ،ڈیڑھ سالہ بچی جان کی بازی ہار گئی

لودھراں (نیا ٹائم)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لودھراں میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ڈیڑھ سالہ بچی جاں بحق ہوگئی،ورثا کی جانب سے  بچی کی لاش اٹھا کر ہسپتال میں احتجاج کیا گیا جبکہ ہسپتال ایم ایس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی انکوائری کی جارہی ہے۔

 

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لودھراں  میں موجود شہری عبدالرزاق نے بتایا کہ وہ رات دس بجے اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو اسہال اور الٹی کی کیفیت میں ہسپتال لے کر آیا جبکہ  ڈاکٹروں نے اسے چیک کرکے دوائی دی اور کہا کہ تمہاری بیٹی ٹھیک ہے گھر لے جاو طبعیت خراب ہونے پر میں اپنی بیٹی کو رات 2 بجے پھر ہسپتال لایا تو ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر کہ تمہاری بیٹی ٹھیک ہے مجھے دوبارہ گھر بھیج دیا صبح 6 بجے میری بیٹی کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی تو میں اسے دوبارہ ہسپتال لایا جہاں ڈاکٹرز نے اسے چیک تک نہ کیا اور موبائل فون استعمال کرتا رہا۔

 

 شہری عبدالرزاق نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیٹی فوت ہوئی ہے۔شہری نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز  سے انصاف فراہم کرنے اور ہسپتال عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ  دوسری طرف ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر قربان حسین کا کہنا ہے کہ بچی کو واقعی تین مرتبہ ہسپتال لایا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے متاثرہ شخص کے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ڈاکٹر اور عملے کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ایم ایس نے کہا کہ بچی کے ورثا نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے۔

 

 

پکنک نے تین گھرانوں میں صف ماتم بچھا دی