پرویز الہٰی نے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

پرویز الہٰی نے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

لاہور (نیا ٹائم ) پنجاب میں آئینی بحران شدید ہو گیا ، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔پرویز الہٰی کہتے ہیں عثمان بزدار آج بھی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں ۔ 

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ عدلیہ ایوان کی کارروائی میں کسی بھی طرح مداخلت نہیں کر سکتی ، سپریم کورٹ بھی یہ بات واضح کر چکی ہے ، تمام اداروں کو اپنا اور عدلیہ کو اپنا کام کرنا چاہئے ۔ اگر قانون سازی بھی عدالتوں نے کرنا ہے تو پھر ادھر آ جائیں ۔ 

سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ جو بھی بحران پیدا ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ الیکشن کرانے کا حکم عدالت کا تھا ، ہم سب نے مان لیا ، پولیس نے معاملہ خراب کر دیا ، شہباز شریف اور حمزہ کے کہنے پر اسمبلی میں حملہ کیا گیا ، ڈپٹی سپیکر بھاگ کروزیٹرز گیلری میں چلا گیا ، وہاں جا کر الیکشن کرایا گیا ،اس طرح یہ الیکشن ہوا ہی نہیں ، کون کہتا ہے صوبے میں کسی بھی طرح کا آئینی بحران ہے ، عثمان بزدار آج بھی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں ۔ 

چوہدری پرویز الہٰی نے مزید کہا جب تک نیا وزیر اعلیٰ حلف نہیں لیتا پرانا وزیر اعلیٰ ہی برقرار رہتا ہے ، انہوں نے الزام لگایا کہ آج بھی ڈیڑھ سو لوگ سفید کپڑوں میں اسمبلی میں بیٹھے ہیں ، ہم ان کی تصاویر بنا رہے ہیں جس سے پتا چلے گا کہ کون کس کس تھانے میں تعینات ہے ۔ شریفوں کو کوئی پوچھتا نہ تھا ، گلیوں میں مارے مارے پھرتے تھے ، پھر شریفوں کا اصل چہرہ سامنے آیا ہے ۔ 

انہوں نے مزید کہا پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی آسیہ امجد ابھی بھی وینٹی لیٹر پر ہیں ، اس کی ذمہ داری شہباز شریف ، حمزہ شہباز ، آئی جی پولیس اور ڈپٹی سپیکر پر عائد ہوتی ہے ۔ شہباز شریف کے کہنے پر پولیس اسمبلی میں آئی ۔ پنجاب اسمبلی کے 5 ہزار ملازمین گرفتاریوں کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے ۔

 
مریم نواز نے غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا