پنجاب بھر میں ڈیزل کی قلت تاحال برقرار،کسان پریشان

پنجاب بھر میں ڈیزل کی قلت تاحال برقرار،کسان پریشان

لاہور(نیاٹائم) پنجاب بھر میں ڈیزل کی قلت کی خبریں  اب بھی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں اور یہ نئی منتخب ہونےوالی حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

 

حکومتی حلقوں کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ ڈیزل کی مصنوعی قلت پیداکی جارہی ہے،جبکہ کسان گندم کے سیزن میں ڈیزل خریدنے کے لئے رل گئے ہیں،پیٹرول پمپس پر ڈیزل بھروانے والوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی کٹائی اورکپاس کی بوائی ٹائم پر نہ ہونے کا خدشہ ہے۔

 

خیال رہے کہ پنجاب میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر گندم کی کٹائی کے فوری بعد کپاس کاشت کی جاتی ہے اور اسکے لئے پانی بہت اہم چیز ہے،ڈیزل نہ ملنے کے باعث ٹیوب ویل نہ چلنے سے کپاس کی بوائی شیدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

 

پنجاب بھر میں گندم کی کٹائی کا عمل تقریبا مکمل ہو چکا ہے مگر اس کے بعد بھی کسانوں کے لئے ایک اہم پروسیس ہوتا ہے جس  کے لئے بھی ڈیزل کا ہونا بہت لازمی ہے،جی ہاں وہ ہے گندم کی باقیات سے بنائے جانے والا بھوسا جو جانوروں کے کھانے میں استعمال ہوتا ہے،گندم کی کٹائی کے بعد جو اس کی باقیات بچ جاتی ہیں انہیں ٹریکٹر اورتوڑی بنانے والی مشین کی مدد سے اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ جانوروں کی خوراک میں استعمال کیا جاسکے۔

 

بھوسے کا روبار کرنے والے افراد بھی زرعی شعبےسے منسلک ہوتے ہیں اور یہ پاکستان میں باقاعدہ ایک کاروباربن چکا ہے،ڈیزل نہ ملنے کےباعث بھوسے بنانے کا کام شدید متاثر ہے اور اگر بارش ہوگئی تو پھر بھوسہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے،بھوسہ جسے توڑی کے نام سے جانا جاتا ہے ہے نہ صرف جانوروں کے لئے بلکہ صنعتوں میں بھی اسکا استعمال ہوتا ہے۔

 

ایک سگریٹ نے تیار فصل جلا کر راکھ کردی