• Thursday, 29 September 2022
چُنےہوئےمقرب بندے

چُنےہوئےمقرب بندے

فرشتے سے بڑھ کر ہے انساں بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ 

 

مولانا حالی کا یہ خوبصورت سخن صرف ایک شعر ہی نہیں بلکہ درس انسانیت ہے۔

 

ایک آدمی کو انسان کے عہدے پر فائز ہونے کے لئے اپنے اندر کے تمام خصائص بروئے کار لانے پڑتے ہیں۔نفس سے جنگ لڑنا پڑتی ہے، اپنے کردار کی باطل قوتوں کا قلع قمع کرنا پڑتا ہے اور اپنی میں ، اپنے مفادات اور اپنی ذات تک کو کچلنا پڑتا ہےتب جابر وہ انسانیت جیسے بلند مرتبہ پر فائز ہوتا ہےاور اس انسانیت پر قائم رہنے کی جدوجہد بہت تھکا دینے والی ہوتی ہے مگر اللہ بہت ہی خاص بندوں کو یہ بزرگی عطا کرتا ہے اور وہ برگزیدہ ہستیاں انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا لیتی ہیں ۔

 

یہی چنی گئی ہستیاں تھیں ایدھی مرحوم اور بیگم بلقیس ایدھی مرحوم و مغفور جنھوں نے انسانیت کےعلم بلند کئے اور ساری عمر اسی خدمت انسانیت میں گزار کے اللہ کے ہاں سرخرو ہو کر پہنچے اور یقینا اللہ کے ان مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا گیا ہوگا جنھوں نے اپنا تن من دھن اور جوانی اور بڑھاپا احساس ، محبت اور خدمت کے نام لگا دیا۔

 

ہم سے عام لوگ اگر احساس کرتے بھی ہیں تو محض اپنے خونی رشتوں کا ، اپنے قریب رشتوں کا اور بہت چھلانگ لگائی تو دوست احباب تک مگر عظیم اور برگزیدہ ہستیاں خون کے رشتوں کا نہیں انسانیت کے رشتے کا احساس دلوں میں پالتی ہیں اور جب یہ انسانیت پلتی ہے تو رابعہ جیسی ایدھی کے جھولے میں جھولتی بچی اس رشتہ انسانیت کی گھنی ، ٹھنڈی چھاوں میں پل کر اس مقام تک پہنچتی ہے جہاں اس کو پالنے والو کو تو فخر محسوس ہوا ہی ہوگا اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بھی فخر سے سینے چوڑے ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایدھی مرحوم اور بلقیس ایدھی جیسے درویش و قلندر صفت انسان موجود ہیں ۔

 

28 سال قبل ایدھی کے جھولے سے ملنے والی رابعہ بانو جو آج دنیا کے سب سے بڑے جوتوں کے برینڈ نائکی میں اعلی عہدے پر فائز پاکستان کاسر فخر سے بلند کرنے میں صفحہ اول پر ہے۔

 

رابعہ بانو نے بلقیس ایدھی مرحوم کو نہایت شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور اپنی زندگی کی تمام کامیابیاں اپنی اماں (بلقیس ایدھی مرحوم و مغفور ) کے نام کی ہیں اور اس انسانیت کے احساس کو سلام ہے اور سلام ہے ایسی ہستیوں کو جو لاوارث زندگیوں کو اپنی گود میں پال کر ان کو اپنی محبتوں کی گرمی سے سینچ کر بڑے بڑے تناور درخت بناتے ہیں۔

 

زندگی صرف اپنے جینے کا نام نہیں اور نہ ہی عبادات ادا کرنا زندگی ہے زندگی ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا نام اور یہی حقوق ادا کرنے سے ایک عام انسان فرشتوں سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک جگہ پا لیتا ہے ۔

 

(نوٹ:مندرجہ بالاتحریربلاگرکاذاتی نقطہ نظرہوسکتاہے،ادارہ کااس سے متفق ہوناضروری نہیں)